امریکا نے وینزویلا کے تیل کی برآمدات سے منسلک دو آئل ٹینکرز کو ضبط کر لیا، جس سے بین الاقوامی سطح پر شدید توجہ اور ردعمل سامنے آیا۔ روسی حکومت نے امریکی فورسز کی جانب سے روسی پرچم بردار ٹینکر مارینیرا کو قبضے میں لینے کی سخت مذمت کی اور مطالبہ کیا کہ جہاز پر موجود روسی شہریوں کے ساتھ مناسب سلوک کیا جائے اور انہیں بحفاظت واپس جانے کی اجازت دی جائے۔ روس نے اس کارروائی کو بین الاقوامی سمندری قوانین کی خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے اسے "بحری قزاقی” کہہ کر شدید تنقید کا نشانہ بنایا۔ وائٹ ہاؤس کے ترجمان نے جواباً کہا کہ ضبط کیے گئے ٹینکر نے جعلی پرچم استعمال کیا اور روسی بحری عملے کو قانونی کارروائی کا سامنا کرنا پڑے گا۔ انہوں نے مزید کہا کہ تیل کمپنیوں کے سربراہان رواں ہفتے وائٹ ہاؤس میں ملاقات کریں گے اور ضرورت پڑنے پر آئل ورکرز کے تحفظ کے لیے فوج بھی استعمال کی جا سکتی ہے۔ ترجمان نے واضح کیا کہ وینزویلا میں انتخابی ٹائم ٹیبل پر بات کرنا قبل از وقت ہے اور گرین لینڈ کے حوالے سے تمام آپشنز ٹیبل پر موجود ہیں، تاہم پہلا آپشن ہمیشہ سفارتکاری رہتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ سابق ٹرمپ انتظامیہ بھی وینزویلا کے عبوری حکام سے رابطے میں رہی ہے۔ غیر ملکی میڈیا کے مطابق، روسی پرچم بردار ٹینکر مارینیرا کو تقریباً دو ہفتے کے تعاقب کے بعد اٹلانٹک میں آئس لینڈ اور سکاٹ لینڈ کے درمیان روکا گیا۔ اس آپریشن میں برطانوی رائل نیوی نے فضائی اور بحری معاونت فراہم کی۔ دوسرا ٹینکر، ایم ٹی صوفیہ، کیریبین میں غیر قانونی سرگرمیوں میں ملوث پایا گیا اور اسے بھی ضبط کر لیا گیا۔ اس واقعے نے عالمی تیل کی تجارت اور بین الاقوامی تعلقات میں کشیدگی پیدا کر دی ہے۔







Discussion about this post