تار
English
  • پاکستان
  • جہاں نامہ
  • صنف
  • ادب
  • اینٹرٹینمٹ
  • ویڈیوز
  • کھیل
  • کاروبار
  • صحافت
  • تجزیئے
No Result
View All Result
  • پاکستان
  • جہاں نامہ
  • صنف
  • ادب
  • اینٹرٹینمٹ
  • ویڈیوز
  • کھیل
  • کاروبار
  • صحافت
  • تجزیئے
No Result
View All Result
No Result
View All Result
تار

پاکستان اور سعودی عرب کا مل کر ویکسین بنانے کا فیصلہ

by ویب ڈیسک
جنوری 7, 2026
پاکستان اور سعودی عرب کا مل کر ویکسین بنانے کا فیصلہ
Share on FacebookShare on Twitter

پاکستان نے حفاظتی صحت کے شعبے میں ایک اہم اور دور رس قدم اٹھاتے ہوئے توسیعی پروگرام برائے حفاظتی ٹیکہ جات میں شامل ویکسینز کی مشترکہ مقامی تیاری کے لیے سعودی عرب کے ساتھ تعاون کا فیصلہ کر لیا ہے۔ یہ فیصلہ نہ صرف ویکسین کی فراہمی میں درپیش مشکلات کے تناظر میں کیا گیا ہے بلکہ خطے میں حالیہ کشیدگی کے اثرات کو مدنظر رکھتے ہوئے ایک اسٹریٹجک پیش رفت بھی قرار دیا جا رہا ہے۔یہ اہم پیش رفت سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے قومی صحت خدمات، ریگولیشنز اور کوآرڈینیشن کے اجلاس کے دوران سامنے آئی، جہاں وفاقی وزیر صحت سید مصطفیٰ کمال نے اراکین کو ویکسین کی خریداری، موجودہ چیلنجز اور مستقبل کی جامع حکمت عملی سے آگاہ کیا۔

وفاقی وزیر صحت نے کمیٹی کو بتایا کہ 28 جنوری کو سعودی عرب کا ایک اعلیٰ سطحی وفد پاکستان کا دورہ کرے گا، جس کا بنیادی مقصد ویکسین کی مشترکہ تیاری کے لیے تعاون کو حتمی شکل دینا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان ماضی میں ای پی آئی کے تحت درکار ویکسینز زیادہ تر بھارتی کمپنیوں سے بین الاقوامی اداروں کے ذریعے حاصل کرتا رہا ہے، تاہم حالیہ دوطرفہ کشیدگی کے بعد بھارتی مینوفیکچررز نے پاکستان کو ویکسین فراہم کرنے سے انکار کر دیا۔ صورتحال یہاں تک پہنچ گئی کہ تیسرے فریق کے ذریعے بھی ویکسین کی سپلائی ممکن نہ رہی، جس سے قومی سطح پر ویکسین کی فراہمی متاثر ہوئی۔سید مصطفیٰ کمال کے مطابق پاکستان ہر سال تقریباً 350 سے 400 ملین ڈالر مالیت کی ویکسین خریدتا ہے۔ اس مجموعی لاگت کا 51 فیصد حصہ ملکی وسائل سے پورا کیا جاتا ہے، جبکہ باقی رقم عالمی شراکت دار ادارے فراہم کرتے ہیں۔ ان اداروں میں گیوی، یونیسیف، عالمی ادارۂ صحت، گیٹس فاؤنڈیشن اور روٹری انٹرنیشنل شامل ہیں، جو پاکستان کے حفاظتی ٹیکہ جات پروگرام میں کلیدی کردار ادا کر رہے ہیں۔

mustfa kamal

وفاقی وزیر صحت نے یہ بھی بتایا کہ عالمی شراکت داروں کی مالی معاونت 2030 تک جاری رہنے کی توقع ہے، جس کے بعد پاکستان کو اپنا حفاظتی ٹیکہ جات پروگرام مکمل طور پر اپنے وسائل سے چلانا ہوگا۔ اسی پیش بندی کے تحت حکومت نے نیشنل ویکسین پالیسی وزیر اعظم کو ارسال کر دی ہے۔اس پالیسی کے تحت نیشنل ویکسین الائنس کے قیام کی تجویز دی گئی ہے، جس میں مقامی فارماسیوٹیکل کمپنیوں کو پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کے تحت شامل کیا جائے گا۔ وزیر صحت کے مطابق مختلف ممالک کے ساتھ شراکت داری کے امکانات کا تفصیلی جائزہ لینے کے بعد سعودی عرب کو اس اہم منصوبے کے لیے منتخب کیا گیا ہے۔انہوں نے مزید وضاحت کی کہ مجوزہ منصوبے کے ابتدائی مرحلے میں ویکسین کی پیکجنگ اور فِنشنگ پاکستان میں کی جائے گی، جبکہ بعد ازاں مرحلہ وار مکمل مقامی تیاری کی جانب پیش رفت کی جائے گی۔ پاکستان کو ہر سال تقریباً 140 ملین ای پی آئی ویکسین ڈوزز درکار ہوتی ہیں، اور یہ منصوبہ ملک کو ویکسین کے شعبے میں خود کفالت کی راہ پر گامزن کرنے میں اہم سنگ میل ثابت ہو سکتا ہے۔

Previous Post

امریکی حکومت کا ویزا پالیسی کو مزید سخت کرنے کا فیصلہ

Next Post

چین : خواہشمند افراد کے لیے ویزا اور فری انٹری سہولیات

Next Post
china

چین : خواہشمند افراد کے لیے ویزا اور فری انٹری سہولیات

Discussion about this post

تار نامہ

برٹنی اسپیئرز نشے کی حالت میں گاڑی چلانے پر گرفتار

برٹنی اسپیئرز نشے کی حالت میں گاڑی چلانے پر گرفتار

drone

پنجاب میں ’اینٹی ڈرون یونٹ‘ قائم کرنے کا فیصلہ

ricky martin

معروف گلوکار رکی مارٹن ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ کی اختتامی تقریب میں پرفارم کریں گے

iran 4

امریکی ٹی وی کی ایران کی بڑی جنگی کامیابیوں کی تصدیق

اگست میں بنگلہ دیش کی 2 کرکٹ  ٹیمیں آئیں گی

پاکستان کے خلاف ون ڈے سیریز، بنگلہ دیش اسکواڈ کا اعلان

تار

  • ہمارے بارے میں
  • پرائیویسی پالیسی

No Result
View All Result
  • پاکستان
  • جہاں نامہ
  • صنف
  • ادب
  • اینٹرٹینمٹ
  • ویڈیوز
  • کھیل
  • کاروبار
  • صحافت
  • تجزیئے

Welcome Back!

Login to your account below

Forgotten Password?

Retrieve your password

Please enter your username or email address to reset your password.

Log In

Add New Playlist