وینزویلا کی اپوزیشن رہنما ماریا کورینا ماچاڈو نے اعلان کیا ہے کہ وہ جلد از جلد وطن واپس آنے کا ارادہ رکھتی ہیں، اور ساتھ ہی دارالحکومت کاراکاس میں قائم عبوری حکومت پر سخت تنقید بھی کی۔یہ ان کا عوامی سطح پر پہلا ردعمل ہے، جو سوشل میڈیا پر جاری بیان کے بعد سامنے آیا۔ نوبیل امن انعام یافتہ ماچاڈو نے عزم ظاہر کیا کہ وہ اپنے ملک کی خدمت کے لیے واپس آئیں گی۔ ماچاڈو گزشتہ ماہ ناروے گئی تھیں، جہاں انہیں آمریت کے خلاف جدوجہد کے اعتراف میں نوبیل امن انعام دیا گیا، اور اس کے بعد سے وہ وینزویلا واپس نہیں آئیں۔ فاکس نیوز کے میزبان شان ہینٹی کو دیے گئے ایک انٹرویو میں انہوں نے کہا کہ وہ جلد از جلد وطن واپسی کی منصوبہ بندی کر رہی ہیں۔ ماچاڈو نے عبوری صدر ڈیلسی روڈریگز کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا اور کہا کہ وہ تشدد، سیاسی جبر، بدعنوانی اور منشیات کی اسمگلنگ کے اہم ذمہ داروں میں شامل ہیں۔ انہوں نے کہا کہ روڈریگز کو وینزویلا کے عوام پہلے ہی مسترد کر چکے ہیں اور ووٹرز اپوزیشن کے ساتھ کھڑے ہیں۔
Machado: We will turn Venezuela into the energy hub of the Americas. We will bring rule of law, open markets. We will bring millions of Venezuela who fled the country back home pic.twitter.com/gGGAq1o5YX
— Acyn (@Acyn) January 6, 2026
ماچاڈو نے یقین دلایا کہ آزاد اور شفاف انتخابات میں اپوزیشن نوے فیصد سے زائد ووٹوں سے کامیاب ہوگی، اور وہ وینزویلا کو براعظم امریکا کا توانائی مرکز بنائیں گی۔ وہ ملک کو نقصان پہنچانے والے تمام مجرمانہ ڈھانچوں کو ختم کرنے کے ساتھ لاکھوں شہریوں کو واپس لانے کا بھی وعدہ کرتی ہیں جو ملک چھوڑنے پر مجبور ہوئے۔ ان کا کہنا تھا کہ اکتوبر 2025 کے بعد ان کا امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے کوئی رابطہ نہیں ہوا، اور آخری بار بات اسی دن ہوئی جب نوبیل امن انعام کا اعلان کیا گیا۔ ماچاڈو نے امریکی کارروائی کو انسانیت، آزادی اور انسانی وقار کے لیے اہم اقدام قرار دیا۔تاہم صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ہفتے کو ماچاڈو کے ساتھ کام کرنے کے امکان کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ انہیں ملک کے اندر حمایت یا احترام حاصل نہیں۔

دوسری جانب سی آئی اے کی ایک خفیہ رپورٹ کے مطابق مادورو کے قریبی وفادار رہنما، بشمول نائب صدر ڈیلسی روڈریگز، اقتدار کی منتقلی کی صورت میں ملک میں استحکام قائم رکھنے کے لیے زیادہ موزوں ہیں۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ یہی وجہ بنی کہ ٹرمپ انتظامیہ نے اپوزیشن رہنما کے بجائے مادورو کی نائب صدر کی حمایت کو ترجیح دی۔ وائٹ ہاؤس نے رپورٹ کی تصدیق سے انکار کیا، تاہم صدارتی ترجمان نے بتایا کہ صدر ٹرمپ دنیا بھر کی سیاسی صورتحال پر بریفنگ لیتے ہیں اور ان کی ٹیم ایسے فیصلے کر رہی ہے جو امریکا کے مفادات اور وینزویلا کے عوام کے لیے بہتر ہوں۔






Discussion about this post