اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے وینزویلا میں امریکی فوجی کارروائی اور صدر نکولس مادورو کی گرفتاری کے بعد ہنگامی اجلاس بلایا، جو عالمی سطح پر شدید تقسیم کا منظر پیش کر رہا ہے۔ اس اجلاس میں پاکستان نے یکطرفہ اقدامات کی سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے پرامن حل کی ضرورت پر زور دیا۔ صومالیہ کی صدارت میں ہونے والے اجلاس میں خطاب کرتے ہوئے پاکستان کے قائم مقام مستقل مندوب، سفیر عثمان جدون نے گہری تشویش کا اظہار کیا کہ دنیا متعدد سنگین بحرانوں سے دوچار ہے اور ایسے میں کیریبین خطے میں جاری عدم استحکام عالمی امن کے لیے سنگین خطرہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ یکطرفہ فوجی اقدامات اقوام متحدہ کے منشور اور بین الاقوامی اصولوں کی کھلی خلاف ورزی ہیں، جو قانونی نظام کو کمزور اور خطے میں دیرپا عدم استحکام پیدا کر سکتے ہیں۔ سفیر جدون نے زور دیا کہ تمام فریقین تحمل کا مظاہرہ کریں، کشیدگی میں کمی لائی جائے اور ثالثی کی مخلصانہ کوششوں کو موقع دیا جائے۔ پاکستان کی یہ پالیسی واضح ہے کہ وینزویلا بحران کا واحد پائیدار حل مکالمہ اور سفارتکاری ہے، جہاں وینزویلا کے عوام کی مرضی کا مکمل احترام کیا جائے اور کسی بھی بیرونی مداخلت سے اجتناب کیا جائے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ لاطینی امریکا اور کیریبین خطہ، جو عالمی سطح پر امن کا گہوارہ سمجھا جاتا ہے، تصادم اور محاذ آرائی سے محفوظ رہے گا، اور تمام توجہ وینزویلا میں امن، استحکام اور عوامی فلاح و بہبود پر مرکوز ہو۔ اجلاس میں پاکستان نے نہ صرف تنازعات کے پرامن حل کے عزم کا اظہار کیا بلکہ یو این چارٹر کی پاسداری کے لیے ذمہ دارانہ آواز کے طور پر اپنا موقف واضح کیا۔

قائم مقام مندوب عثمان جدون نے کہا کہ یکطرفہ فوجی کارروائیاں عالمی قانونی ڈھانچے کے لیے خطرناک نظیر قائم کر سکتی ہیں اور یہ اقوام متحدہ کے منشور کے بنیادی اصولوں کے منافی ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ ایسے اقدامات خطے میں غیر متوقع اور ناقابلِ قابو نتائج پیدا کر سکتے ہیں، اور کیریبین میں جاری عدم استحکام نہ صرف علاقائی بلکہ عالمی امن کے لیے خطرہ ہے۔ اس نازک مرحلے پر آگے بڑھنے کا واحد راستہ مکالمہ اور سفارتکاری ہی ہے۔ خیال رہے کہ 3 جنوری کو امریکا نے وینزویلا کے صدر نکولس مادورو اور ان کی اہلیہ کو ایک فوجی کارروائی کے دوران حراست میں لیا تھا، جس کے بعد انہیں نیویارک کی جیل میں رکھا گیا۔ امریکی عدالت میں انہیں منشیات اور دہشتگردی کے الزامات کے تحت پیش کیا گیا۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے وینزویلا کے تیل کے ذخائر پر کنٹرول حاصل کرنے اور امریکی کمپنیوں کو وہاں کی تیل کی ترسیل کے منصوبے کا اعلان کیا۔ امریکی دعوے کے مطابق وینزویلا کی نائب صدر ڈیلسی روڈریگز ہر معاملے میں امریکا کے ساتھ تعاون کے لیے تیار ہیں، لیکن عالمی برادری اور پاکستان واضح کرتے ہیں کہ پرامن مذاکرات اور عوام کی رائے کے احترام کے بغیر کوئی حل پائیدار نہیں ہو سکتا۔







Discussion about this post