بنگلادیش نے سیکیورٹی خدشات کے پیش نظر بھارت میں ہونے والے ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ میں شرکت سے انکار کر دیا ہے۔ بنگلادیش کرکٹ بورڈ (بی سی بی) نے اپنے اس فیصلے سے انٹرنیشنل کرکٹ کونسل (آئی سی سی) کو باضابطہ طور پر آگاہ کر دیا ہے اور درخواست کی ہے کہ بنگلادیش کے میچز سری لنکا منتقل کیے جائیں۔ بورڈ کا مؤقف ہے کہ موجودہ سیاسی کشیدگی کی وجہ سے قومی ٹیم بھارت کا سفر نہیں کر سکتی۔ بنگلادیشی حکومت نے بھی کرکٹ بورڈ کو ہدایت دی تھی کہ وہ کھلاڑیوں کی حفاظت کو مقدم رکھتے ہوئے آئی سی سی سے رابطہ کرے۔ مشیرِ کھیل آصف نذرال نے کہا کہ کھلاڑیوں کی سلامتی حکومت اور بورڈ کی اولین ترجیح ہے۔ بی سی بی کے صدر نے اعلان کیا کہ معاملے پر غور کے لیے ہنگامی اجلاس طلب کیا جائے گا جس میں آئندہ کے لائحہ عمل کا فیصلہ کیا جائے گا۔ آئی سی سی کی جانب سے تاحال کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا۔ ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ میں بنگلادیش کا پہلا میچ 7 فروری کو ویسٹ انڈیز، دوسرا میچ 9 فروری کو اٹلی، تیسرا میچ 14 فروری کو انگلینڈ اور چوتھا میچ 17 فروری کو نیپال کے خلاف شیڈول ہے۔ ابتدائی تین میچز کولکتہ جبکہ چوتھا میچ ممبئی میں کھیلا جانا ہے۔

بی سی سی آئی ذرائع کا کہنا ہے کہ صرف ایک ماہ باقی رہ جانے کے بعد میچز کا مقام تبدیل کرنا تقریباً ناممکن ہے، کیونکہ ٹیموں کے ہوائی ٹکٹ، ہوٹل بکنگ اور براڈکاسٹ عملہ پہلے ہی مقرر ہو چکا ہے۔ واضح رہے کہ بھارت نے گزشتہ چیمپئنز ٹرافی میں پاکستان کو میچ کی میزبانی سے روک دیا تھا، جس کے بعد دونوں ممالک کے میچز نیوٹرل وینیو پر کھیلے گئے، اور پاکستان اس معاہدے کے تحت اپنے ورلڈ کپ میچز سری لنکا میں کھیلے گا۔ سابق پاکستانی کپتان اور آل راؤنڈر شاہد آفریدی نے بنگلادیش کے بھارت نہ جانے کے فیصلے کی مکمل حمایت کرتے ہوئے کہا کہ آئی سی سی کو تمام ممبر ممالک کے لیے متوازن فیصلے کرنے چاہئیں، نہ کہ صرف ایک ملک کے حق میں جھکاؤ دکھانا۔ انہوں نے واضح کیا کہ بنگلادیش کے میچز کسی محفوظ مقام پر منتقل کرنا آئی سی سی کی ذمہ داری ہے، اور کھلاڑی ہمیشہ ایک دوسرے کے ساتھ کھیلنے کی خواہش رکھتے ہیں۔ اس فیصلے کے بعد بنگلادیش کرکٹ ٹیم بھارت میں ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ کھیلنے سے مکمل طور پر دستبردار ہو گئی ہے، جو کھیل کے عالمی منظر نامے میں ایک اہم خبر بن گئی ہے۔







Discussion about this post