امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے وینزویلا کی عبوری صدر ڈیلسی روڈریگیز کو کھلی دھمکی دے دی ہے کہ اگر وہ امریکا کے مطالبات پر عمل نہیں کریں گی تو انہیں مادورو سے بھی زیادہ بھاری قیمت چکانی پڑے گی۔ ٹرمپ نے ایک تازہ انٹرویو میں کہا کہ روڈریگیز کی غیر تعاون کی صورت میں ان کا انجام نہ صرف خطرناک ہوگا بلکہ وہ مادورو کے حالات سے بھی کہیں زیادہ سنگین ہوں گے، جو اس وقت نیویارک کی جیل میں منشیات اور دہشت گردی کے الزامات کا سامنا کر رہے ہیں۔ یہ دھمکی اسی وقت سامنے آئی جب روڈریگیز نے ٹیلی وژن پر قوم سے خطاب کیا اور مادورو کو وینزویلا کا واحد صدر قرار دیتے ہوئے ان کی فوری رہائی کا مطالبہ کیا۔ روڈریگیز نے امریکی فوجی کارروائی کو وحشیانہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ وینزویلا کبھی کسی کا نوآبادیاتی ملک نہیں بنے گا اور ملکی وسائل کے تحفظ کے لیے وہ ہر ممکن اقدام کریں گی۔ انہوں نے فوج اور عوام سے اپیل کی کہ مادورو کی واپسی تک سب متحد رہیں۔

اسی دوران امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے لاطینی امریکا کے دیگر ممالک کے لیے بھی سخت بیانات دیے ہیں۔ ایئر فورس ون میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کولمبیا کے صدر گستاوو پیٹرو کو واضح دھمکی دی اور کہا کہ امریکی فوجی کارروائی کولمبیا میں ایک موزوں اقدام ہو سکتی ہے۔ ٹرمپ نے کہا کہ کولمبیا کی صورتحال خراب ہے اور وہاں منشیات کی پیداوار اور اسمگلنگ جاری ہے، جسے امریکا کسی بھی صورت برداشت نہیں کرے گا۔ جب ان سے امریکی کارروائی کی تفصیل پوچھی گئی تو انہوں نے کہا کہ یہ اقدام ان کے لیے بالکل قابلِ قبول ہے۔ امریکی صدر نے کیوبا کے بارے میں بھی سخت لہجے میں بات کرتے ہوئے کہا کہ کیوبا کی حکومت کمزور ہو چکی ہے اور ملک خود گرنے کے قریب ہے۔ ان کے بقول کیوبا کی معیشت وینزویلا کے تیل پر شدید منحصر تھی، جو اب بند ہو چکا ہے۔ ٹرمپ نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ امریکا اس وقت وینزویلا کے معاملات پر مکمل کنٹرول رکھتا ہے اور اگر تعاون نہ ہوا تو دوبارہ فوجی کارروائی سے گریز نہیں کیا جائے گا، حالانکہ وینزویلا کی سپریم کورٹ نے ڈیلسی روڈریگیز کو عبوری صدر کے طور پر تسلیم کر رکھا ہے۔ اسی موقع پر امریکی صدر نے میکسیکو کو بھی خبردار کیا اور کہا کہ منشیات کی اسمگلنگ روکنے کے لیے میکسیکو کو اپنے نظام کو درست کرنا ہوگا، ورنہ امریکا سخت اقدامات کرنے پر مجبور ہوگا۔ ماہرین کے مطابق، ٹرمپ کے یہ بیانات لاطینی امریکا میں امریکی بالادستی کے نئے مظاہرے کے مترادف ہیں اور ایک واضح پیغام ہیں کہ امریکا اپنے مفادات کے تحفظ کے لیے ہر ممکن قدم اٹھانے کو تیار ہے۔







Discussion about this post