امریکا میں تعینات پاکستان کے سفیر رضوان سعید شیخ کا کہنا ہے کہ مئی 2025 میں بھارت کے اچانک حملے کے بعد ہونے والی قلیل مگر شدید جنگ نے پاکستان کو عالمی منظرنامے پر ایک منفرد اور غیر معمولی مقام دلا دیا۔ ان کے مطابق اس آزمائش میں کامیابی نے نہ صرف پاکستان کو ایک ذمہ دار ریاست کے طور پر نمایاں کیا بلکہ عالمی برادری میں اسے ایک بااثر اور سنجیدہ فریق کے طور پر بھی تسلیم کروایا۔واشنگٹن میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے سفیر نے کہا کہ پاکستان ہمیشہ عالمی امن اور سلامتی کے لیے متوازن اور ذمہ دارانہ کردار ادا کرتا آیا ہے، اور حالیہ پیش رفت کے بعد دنیا اب پاکستان کو ایک کلیدی اسٹیک ہولڈر کے طور پر دیکھ رہی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ 2025 کے دوران پاکستان اور امریکا کے تعلقات میں نمایاں بہتری آئی، جو ماضی کے مقابلے میں زیادہ مثبت، متحرک اور مضبوط رہی۔رضوان سعید شیخ نے اس سفارتی کامیابی کا کریڈٹ ملکی قیادت کو دیتے ہوئے کہا کہ بروقت فیصلوں اور مؤثر سفارت کاری نے پاکستان کے عالمی تشخص کو مزید مضبوط بنیادوں پر استوار کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ امریکا میں پاکستان کی سفارتی سرگرمیاں نہایت کامیابی سے جاری ہیں اور آنے والے دنوں میں ان میں مزید وسعت اور گہرائی متوقع ہے۔نئے سال کے آغاز پر بات کرتے ہوئے پاکستانی سفیر نے امید ظاہر کی کہ 2026 پاکستان اور امریکا کے تعلقات کے لیے نئے امکانات اور مواقع لے کر آئے گا، جہاں باہمی تعاون کے دائرے مزید پھیلیں گے اور شراکت داری کو نئی سمت ملے گی۔ انہوں نے یاد دلایا کہ مئی 2025 میں بھارت کی جانب سے کیے گئے غیر اشتعال انگیز حملے کے بعد دونوں ممالک کے درمیان 87 گھنٹوں پر محیط جنگ ہوئی، جس میں پاکستان نے بھارت کے 6 جنگی طیارے، جن میں 3 جدید رافیل طیارے بھی شامل تھے، کے علاوہ درجنوں ڈرونز کو تباہ کیا۔ یہ کشیدگی 10 مئی کو امریکا کی ثالثی میں ہونے والے سیزفائر پر اختتام پذیر ہوئی۔
واشنگٹن سے جاری اپنے نئے سال 2026 کے خصوصی پیغام میں رضوان سعید شیخ نے کہا کہ 2025 پاکستان اور امریکا کے تعلقات میں ایک فیصلہ کن موڑ ثابت ہوا، جس نے تقریباً آٹھ دہائیوں پر محیط دوطرفہ تعلقات میں نئی روح پھونک دی۔ ان کے مطابق اس برس دونوں ممالک کے درمیان اعتماد، رابطوں اور تعاون میں واضح اضافہ دیکھنے میں آیا۔ انہوں نے بتایا کہ انسداد دہشتگردی، صحت اور تعلیم جیسے اہم شعبوں میں تعاون مسلسل جاری رہا، جبکہ آئی ٹی، معدنیات، توانائی، مہمان نوازی اور سیاحت جیسے میدانوں میں شراکت داری کے نئے دروازے بھی کھلے۔ ان شعبوں میں اب عملی پیش رفت کے امکانات روشن نظر آ رہے ہیں۔ پاکستانی سفیر کا کہنا تھا کہ دونوں ممالک کی قیادت کے درمیان مسلسل اور براہ راست روابط نے تعلقات کی رفتار کو برقرار رکھا۔ 2026 کی طرف دیکھتے ہوئے انہوں نے زور دیا کہ پاکستان اور امریکا جیسے دو بڑے اور گنجان آباد ممالک کے درمیان مضبوط، دیرپا اور اسٹریٹجک تعلقات وقت کی اہم ضرورت ہیں۔ انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ اب پالیسی سطح پر ہونے والے اتفاقِ رائے کو عوامی روابط اور کاروباری شراکت داری میں ڈھالنا ہوگا تاکہ دوطرفہ تعلقات کو عملی اور دیرپا بنیادیں فراہم کی جا سکیں۔اختتام پر رضوان سعید شیخ نے پاکستانی نژاد امریکیوں اور امریکی عوام کو نئے سال کی دلی مبارک باد پیش کرتے ہوئے امید ظاہر کی کہ آنے والا سال پاکستان اور امریکا کے تعلقات میں ٹھوس، مثبت اور قابلِ فخر پیش رفت کا پیامبر ثابت ہوگا۔







Discussion about this post