پاکستان میں سال 2025 پاسپورٹ خدمات کے حوالے سے ایک نمایاں اور تاریخی سال ثابت ہوا، جہاں ریکارڈ تعداد میں شہریوں کو سفری دستاویزات فراہم کی گئیں۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق اس ایک سال کے دوران 55 لاکھ سے زائد پاسپورٹس جاری کیے گئے، جو نہ صرف طلب میں اضافے بلکہ نظام میں بہتری اور رفتار کی واضح عکاسی کرتا ہے۔ ڈائریکٹر جنرل امیگریشن اینڈ پاسپورٹس کی سالانہ کارکردگی رپورٹ کے مطابق جاری ہونے والے پاسپورٹس میں 32 لاکھ نارمل، 18 لاکھ ارجنٹ جبکہ 2 لاکھ 76 ہزار فاسٹ ٹریک سروس کے تحت فراہم کیے گئے۔ یہ اعداد و شمار اس بات کا ثبوت ہیں کہ شہری تیز اور جدید سہولیات کی جانب تیزی سے راغب ہو رہے ہیں۔ رپورٹ میں اس خوش آئند رجحان کی بھی نشاندہی کی گئی ہے کہ پاکستانی شہری بڑی تعداد میں الیکٹرانک پاسپورٹس کو ترجیح دے رہے ہیں، جس سے روایتی پاسپورٹس کے مقابلے میں جدید اور محفوظ سفری دستاویزات کی مقبولیت میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔ محکمے کے مطابق یہ پیش رفت ڈائریکٹر جنرل پاسپورٹس کی قیادت میں کی گئی جامع اصلاحات کا نتیجہ ہے، جو وزیرِاعظم شہباز شریف اور وزیرِداخلہ محسن نقوی کی خصوصی ہدایات پر عمل میں لائی گئیں۔ جدید پرنٹنگ مشینوں کی تنصیب کے ذریعے برسوں سے موجود پاسپورٹ بیک لاگ کو مکمل طور پر ختم کر دیا گیا، جس سے شہریوں کو بروقت سہولت میسر آئی۔

رپورٹ میں بتایا گیا کہ پہلی مرتبہ چوبیس گھنٹے، ہفتے کے ساتوں دن پاسپورٹ پروسیسنگ اور ڈیلیوری سروس کا آغاز کیا گیا، جس کے تحت شہری کسی بھی وقت درخواست جمع کرا سکتے ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ پاسپورٹ ہیڈکوارٹرز اور علاقائی دفاتر کی ازسرِنو تزئین و آرائش کی گئی، تاکہ عوام کو ایک بہتر اور باوقار ماحول میں خدمات فراہم کی جا سکیں۔سال 2025 میں بیرونِ ملک مقیم پاکستانیوں کو بھی نظر انداز نہیں کیا گیا۔ رپورٹ کے مطابق پاکستان کے سفارت خانوں میں ون ونڈو پاسپورٹ سروس متعارف کرائی گئی، جس سے سمندر پار پاکستانیوں کے لیے پاسپورٹ سے متعلق امور نہایت آسان ہو گئے۔ مزید برآں، جدید سیکیورٹی فیچرز سے لیس نئے پاسپورٹ بُک تیار کیے گئے اور ملک بھر میں پاسپورٹ دفاتر اور کاؤنٹرز کے دائرہ کار کو وسعت دی گئی۔یہ تمام اقدامات اس امر کی عکاسی کرتے ہیں کہ پاکستان میں پاسپورٹ نظام تیزی سے جدید خطوط پر استوار ہو رہا ہے، جہاں سہولت، رفتار اور شفافیت کو اولین ترجیح دی جا رہی ہے۔






Discussion about this post