ایران میں بڑھتی ہوئی مہنگائی اور روزمرہ زندگی کے ناقابلِ برداشت اخراجات کے خلاف اٹھنے والی عوامی آواز اب سنگین رخ اختیار کر چکی ہے۔ مختلف شہروں میں جاری احتجاج کے دوران سکیورٹی اہلکاروں اور مظاہرین کے درمیان شدید تصادم ہوئے، جن کے نتیجے میں کم از کم چھ جانیں ضائع ہو گئیں۔ عالمی خبر رساں ذرائع کے مطابق حالیہ احتجاجی لہر کے آغاز کے بعد یہ پہلی بار ہے کہ حالات اس قدر خونریز ثابت ہوئے ہیں۔ مغربی ایران کے متعدد علاقوں میں ہونے والی جھڑپوں میں جاں بحق افراد میں ایک سکیورٹی اہلکار بھی شامل ہے۔ نیم سرکاری ادارے فارس کی رپورٹ کے مطابق صوبہ چهارمحال و بختیاری کے شہر لردگان میں دو شہری اس وقت ہلاک ہوئے جب حالات بے قابو ہو کر سکیورٹی فورسز سے ٹکرا گئے۔

سرکاری میڈیا کا کہنا ہے کہ صوبہ لورستان کے شہر کوہدشت میں بسیج فورس کا اکیس سالہ اہلکار جان کی بازی ہار گیا، جسے حکام کے مطابق مظاہرین کی جانب سے کیے گئے پتھراؤ کے دوران مہلک چوٹیں آئیں۔ دوسری جانب انسانی حقوق کی تنظیم ہینگاؤ نے ایک مختلف تصویر پیش کی ہے۔ تنظیم کے مطابق لردگان میں سکیورٹی فورسز کی فائرنگ سے کئی افراد ہلاک اور متعدد زخمی ہوئے، جبکہ کوہدشت میں جان سے جانے والا شخص دراصل ایک نوجوان مظاہرہ کرنے والا تھا۔ تاہم ان متضاد دعوؤں کی آزاد ذرائع سے تصدیق ممکن نہیں ہو سکی۔ یہ احتجاجی تحریک اتوار کے روز تہران میں تاجروں کی ہڑتال سے ابھری، جہاں مہنگائی، معاشی جمود اور ایرانی کرنسی کی تیزی سے گرتی ہوئی قدر کے خلاف شدید غم و غصہ دیکھنے میں آیا۔ وقت گزرنے کے ساتھ یہ احتجاج دیگر بڑے شہروں تک پھیل گیا اور کم از کم دس جامعات کے طلبہ بھی اس عوامی تحریک کا حصہ بن گئے۔ ایرانی معیشت طویل عرصے سے مغربی پابندیوں کے بوجھ تلے دبی ہوئی ہے۔ گزشتہ ایک سال کے دوران ایرانی ریال امریکی ڈالر کے مقابلے میں ایک تہائی سے زیادہ قدر کھو چکا ہے، جبکہ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق صرف دسمبر میں مہنگائی کی شرح خطرناک حد تک بڑھ کر باون فیصد تک جا پہنچی۔

ایران کے صدر مسعود پزشکیان نے عوامی بے چینی کو بے بنیاد قرار دینے کے بجائے مظاہرین کے مطالبات کو جائز تسلیم کیا ہے اور حکومت پر زور دیا ہے کہ وہ معاشی حالات میں بہتری لانے کے لیے فوری اقدامات کرے۔ تاہم حکام نے ساتھ ہی یہ انتباہ بھی جاری کیا ہے کہ ملک میں بدامنی پھیلانے والوں کے خلاف سخت کارروائی سے گریز نہیں کیا جائے گا۔یہ صورتحال ایران کے لیے ایک فیصلہ کن موڑ بن چکی ہے، جہاں عوام کی معاشی فریاد اور ریاستی طاقت آمنے سامنے کھڑی دکھائی دیتی ہیں۔







Discussion about this post