برطانوی جریدے دی ٹیلیگراف کی تازہ اشاعت میں واشنگٹن کے سفارتی منظرنامے پر پاکستان کی غیر معمولی پیش رفت کو نمایاں انداز میں پیش کیا گیا ہے، جہاں رپورٹ کے مطابق بھارت کی جانب سے کروڑوں ڈالرز کی لابنگ اور صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے قریبی حلقوں تک رسائی کی بھرپور کوششوں کے باوجود پاکستان نے فیصلہ کن برتری حاصل کرلی۔ اخبار کے مطابق صدر ٹرمپ کے پہلے دورِ صدارت میں پاکستان اور امریکا کے تعلقات شدید تناؤ کا شکار رہے تھے۔ اس وقت اسلام آباد پر یہ الزامات عائد کیے گئے تھے کہ وہ امریکی مالی معاونت حاصل کرنے کے باوجود اعتماد کو ٹھیس پہنچاتا رہا اور طالبان عناصر کو ایسی محفوظ جگہیں فراہم کرتا رہا جہاں سے امریکا کے خلاف کارروائیاں کی جاتی تھیں۔ تاہم اس بار پاکستان نے مؤثر سفارتی حکمتِ عملی اور عملی تعاون کے ذریعے نہ صرف یہ منفی تاثر زائل کیا بلکہ واشنگٹن کا اعتماد دوبارہ حاصل کرنے میں بھی کامیاب رہا۔ دی ٹیلیگراف کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ حالیہ سرحدی کشیدگی کے بعد پاکستان اور بھارت دونوں نے امریکا میں اپنے مفادات کے تحفظ کے لیے بھاری سرمایہ لابنگ پر خرچ کیا اور صدر ٹرمپ کے قریبی ساتھیوں کی مدد بھی لی، مگر اس تمام تر دوڑ میں اسلام آباد نے نئی دہلی پر واضح سبقت حاصل کرلی۔ اخبار لکھتا ہے کہ پاکستان کی یہ سفارتی کامیابی صرف بیانات تک محدود نہیں رہی بلکہ اس کے عملی نتائج بھی سامنے آئے، جن میں دیگر کئی ممالک کے مقابلے میں بہتر تجارتی ٹیرف کا حصول اور فوجی قیادت و وزیراعظم کو اوول آفس میں ملاقات کا موقع ملنا شامل ہے، جو پاکستان کے لیے ایک غیر معمولی سفارتی اعزاز سمجھا جا رہا ہے۔

رپورٹ کے مطابق صدر ٹرمپ کی جانب سے پاکستان کے لیے نرم گوشے کی ایک بڑی وجہ داعش خراسان کے انتہائی مطلوب دہشت گرد ثنا المعروف جعفر کی گرفتاری میں اسلام آباد کا کلیدی کردار تھا، جو کابل ایئرپورٹ کے ایبے گیٹ پر امریکی انخلا کے دوران ہونے والے ہلاکت خیز حملے میں ملوث رہا تھا۔ دی ٹیلیگراف کے مطابق اپریل میں مقبوضہ کشمیر میں 26 افراد کی ہلاکت کے بعد بھارت نے اس واقعے کا الزام پاکستان پر عائد کرتے ہوئے عسکری کارروائی کی، جس سے خطے میں شدید کشیدگی پیدا ہوئی۔ پاکستان نے اس جارحیت کا فضائی اور زمینی سطح پر بھرپور جواب دیا، اور بالآخر یہ صورتحال صدر ٹرمپ کی مداخلت سے قابو میں آئی۔ اخبار کا کہنا ہے کہ اس بحران کے دوران دونوں ممالک کے ردعمل نے واشنگٹن میں ان کی سفارتی حیثیت کو واضح کیا، تاہم بھارتی قیادت نے امریکی ثالثی کے کردار کو تسلیم کرنے سے مسلسل انکار کیا۔ رپورٹ میں بھارتی سیکریٹری خارجہ وکرم مسری کے بیان کا حوالہ بھی دیا گیا ہے، جنہوں نے کہا کہ وزیراعظم نریندر مودی کا مؤقف بالکل واضح ہے کہ بھارت نے نہ کبھی کسی ثالثی کو قبول کیا ہے اور نہ ہی مستقبل میں ایسا کرنے کا ارادہ رکھتا ہے۔ دی ٹیلیگراف کے مطابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کانگریس کے مشترکہ اجلاس سے اپنے دوسرے صدارتی دور کے ابتدائی خطاب میں پاکستان کی حکومت کا خصوصی شکریہ ادا کیا اور ثنا عرف جعفر کی گرفتاری کو دوطرفہ تعاون کی ایک نمایاں مثال قرار دیتے ہوئے اسے عالمی سطح پر پاکستان کی سفارتی ساکھ میں اضافے کا مظہر بتایا۔






Discussion about this post