تار
English
  • پاکستان
  • جہاں نامہ
  • صنف
  • ادب
  • اینٹرٹینمٹ
  • ویڈیوز
  • کھیل
  • کاروبار
  • صحافت
  • تجزیئے
No Result
View All Result
  • پاکستان
  • جہاں نامہ
  • صنف
  • ادب
  • اینٹرٹینمٹ
  • ویڈیوز
  • کھیل
  • کاروبار
  • صحافت
  • تجزیئے
No Result
View All Result
No Result
View All Result
تار

کام کی جگہ پر خواتین کو ہراساں کرنے کا کیس

by ویب ڈیسک
دسمبر 23, 2025
حلف برداری کی تقریب کرائیں، حمزہ نے لاہور ہائی کورٹ سے رجوع کرلیا
Share on FacebookShare on Twitter

لاہور ہائیکورٹ نے خاتون ٹیچر کو ہراساں کرنے کے کیس میں ڈائریکٹر مینجمنٹ ووکیشنل انسٹیٹوٹ کو نوکری سے برطرف کرنے کے محتسب پنجاب کے فیصلے کو درست قرار دے دیا۔ جسٹس راحیل کامران نے درخواست گزار کی نوکری بحال کرنے کی درخواست مسترد کرتے ہوئے 17 صفحات پر مشتمل مفصل فیصلہ جاری کیا۔ فیصلے میں کہا گیا کہ خواتین کو کام کی جگہ ہراساں کرنے کے حقوق صرف دفتر تک محدود نہیں، بلکہ درخواست گزار کی جانب سے شکایت کنندہ کو گھر پر بھی ہراساں کرنے کے الزامات موجود ہیں۔ عدالت نے واضح کیا کہ محتسب پنجاب صرف اس صورت میں کارروائی کر سکتا ہے جب خاتون کو کام کی جگہ پر ہراساں کیا گیا ہو، تاہم موجودہ کیس میں درخواست گزار نے شکایت کنندہ کو دھمکی دی کہ اگر ناجائز تعلقات قائم نہ کیے تو نوکری چلی جائے گی، جو اختیارات کے غلط استعمال کے زمرے میں آتا ہے۔ فیصلے میں مزید کہا گیا کہ خواتین اکثر ہراسمنٹ کے فوری واقعات کا اظہار کرنے سے گریز کرتی ہیں، اس کا مطلب یہ ہرگز نہیں کہ وہ اس پر رضا مند ہیں۔

تفصیلی فیصلے کے مطابق شکایت کنندہ نے بیان دیا کہ درخواست گزار نے ستمبر 2022 میں اس کے گھر آ کر زبردستی ناجائز تعلقات قائم کرنے کی کوشش کی اور متعدد مسیجز بھیجے۔ محتسب پنجاب نے اس شکایت پر کارروائی کرتے ہوئے درخواست گزار کو نوکری سے برطرف کر دیا۔ درخواست گزار نے محتسب پنجاب کے فیصلے کے خلاف گورنر سے اپیل کی، جسے گورنر نے مسترد کرتے ہوئے محتسب کے فیصلے کو برقرار رکھا۔ بعد ازاں درخواست گزار ہائیکورٹ میں رجوع کیا، مگر عدالت نے کہا کہ صرف وہی معاملات زیر غور آ سکتے ہیں جن میں قانونی بے قاعدگی ہو، اور اس کیس میں درخواست گزار نے شکایت کنندہ کے الزامات سے انکار نہیں کیا۔ عدالت نے یہ بھی واضح کیا کہ محتسب پنجاب فوجداری کارروائی کی سزا دینے کا اہل نہیں، اس کا کام صرف ڈسپلنری ایکشن لینا ہے، اور درخواست گزار کے مؤقف کو مسترد کر دیا گیا۔ واٹس ایپ چیٹس اور دیگر شواہد سے بھی درخواست گزار کا مؤقف ثابت نہیں ہوا۔ بالآخر لاہور ہائیکورٹ نے محتسب پنجاب اور گورنر کے فیصلوں میں کوئی قانونی خلا یا بے قاعدگی نہ پاتے ہوئے درخواست گزار کی استدعا کو مکمل طور پر مسترد کر دیا۔

Previous Post

طالبان کی بغیر محرم کے مارکیٹ میں آنے والی خواتین پر پابندی

Next Post

پی ٹی آئی کے غیر قانونی مطالبات اور بلیک میلنگ کے ساتھ مذاکرات نہیں ہو سکتے

Next Post
shahbaz sharif

پی ٹی آئی کے غیر قانونی مطالبات اور بلیک میلنگ کے ساتھ مذاکرات نہیں ہو سکتے

Discussion about this post

تار نامہ

children

یتیم بچوں اور بیواؤں کے لیے ’وزیراعلیٰ پنجاب رحمت کارڈ‘ متعارف کرانے کا فیصلہ

port

پاکستانی بندرگاہوں کی عارضی بندش سے متعلق زیرِ گردش نوٹیفکیشن جعلی ہے

ayat al khumani 2

ایرانی سپریم لیڈر خامنہ ای کی نماز جنازہ کیوں مؤخر ہوئی ؟

currency note

نئے کرنسی نوٹ کیسے حاصل کریں؟

dog

پنجاب میں 2 سال کے دوران 4 لاکھ 36 ہزار سے زائد کتوں کے کاٹنے کے واقعات

تار

  • ہمارے بارے میں
  • پرائیویسی پالیسی

No Result
View All Result
  • پاکستان
  • جہاں نامہ
  • صنف
  • ادب
  • اینٹرٹینمٹ
  • ویڈیوز
  • کھیل
  • کاروبار
  • صحافت
  • تجزیئے

Welcome Back!

Login to your account below

Forgotten Password?

Retrieve your password

Please enter your username or email address to reset your password.

Log In

Add New Playlist