افغانستان اور ازبکستان کے درمیان قائم سرحدی تجارتی مرکز ایک بار پھر خبروں کی زد میں آ گیا ہے، جہاں طالبان حکومت کے تازہ فیصلے نے معمول کی زندگی کو یکسر بدل کر رکھ دیا ہے۔ حیرتان کی یہ مشترکہ مارکیٹ، جو برسوں سے تجارت، آمدورفت اور انسانی روابط کی علامت رہی ہے، اب سخت پابندیوں کا سامنا کر رہی ہے۔ شمالی صوبہ بلخ کے اس سرحدی علاقے میں قائم مارکیٹ میں روزانہ سینکڑوں شہری آتے تھے، جن میں خواتین کی ایک نمایاں تعداد شامل تھی۔ مگر اب طالبان حکام نے واضح ہدایات جاری کر دی ہیں کہ بغیر محرم کے آنے والی کسی بھی خاتون کو مارکیٹ کے احاطے میں قدم رکھنے کی اجازت نہیں ہوگی۔ پابندی کا نفاذ محض اعلانات تک محدود نہیں رہا۔ مارکیٹ کے داخلی راستوں پر تعینات طالبان اہلکار نہ صرف تنہا آنے والی خواتین کو روک رہے ہیں بلکہ ان مردوں سے بھی سوالات کیے جا رہے ہیں جو خواتین کے ہمراہ پہنچتے ہیں۔ عینی شاہدین کے مطابق کئی مقامات پر مردوں سے محرم رشتہ ثابت کرنے کے لیے تحریری دستاویزات طلب کی جا رہی ہیں، اور ثبوت فراہم نہ کرنے کی صورت میں انہیں بھی واپس لوٹا دیا جاتا ہے۔

مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ اس عمل کے دوران بعض اہلکاروں کا رویہ سخت، تحکمانہ اور بعض اوقات تضحیک آمیز ہو جاتا ہے، جس نے شہریوں میں خوف اور غصے کو جنم دیا ہے۔ حیرتان کے رہائشیوں کے مطابق ایسے مناظر اب معمول بنتے جا رہے ہیں جہاں لوگ اپنی ہی زمین پر خود کو اجنبی محسوس کرتے ہیں۔ ایک افغان شہری نے غیر ملکی صحافی سے گفتگو میں کہا کہ جو دباؤ اور تحقیر یہاں برداشت کرنی پڑ رہی ہے، وہ بعض اوقات سرحد کے اُس پار ازبکستانی حکام کے برتاؤ سے بھی زیادہ بھاری محسوس ہوتی ہے۔ ان کے مطابق سرحد عبور کرنے کے خواہشمند افراد کو بار بار روکا جا رہا ہے اور انہیں ذہنی اذیت کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ مقامی آبادی نے یہ بھی نشاندہی کی کہ اس مارکیٹ میں آنے والی خواتین کی بڑی تعداد عمر رسیدہ ہوتی ہے، جو علاج کی غرض سے ازبکستان اور روس کا رخ کرتی ہیں۔ نئی پابندیاں ان خواتین کے لیے مشکلات میں کئی گنا اضافہ کر رہی ہیں اور ان کے علاج کے سفر کو بھی خطرے میں ڈال رہی ہیں۔ اس تمام صورتحال کے باوجود طالبان حکام نے تاحال اس فیصلے پر کوئی باضابطہ وضاحت یا تحریری مؤقف جاری نہیں کیا، جس کے باعث غیر یقینی کی فضا مزید گہری ہوتی جا رہی ہے۔







Discussion about this post