توشہ خانہ ٹو کیس میں احتساب عدالت نے بڑا فیصلہ سناتے ہوئے بانی پی ٹی آئی اور ان کی اہلیہ بشریٰ بی بی کو طویل قید کی سزا سنا دی ہے،۔ قومی احتساب بیورو نے 13 جولائی 2024 کو اس مقدمے کے سلسلے میں دونوں ملزمان کو اڈیالہ جیل سے گرفتار کیا تھا، جہاں وہ مجموعی طور پر 37 روز تک نیب کی تحویل میں رہے۔ تفتیش مکمل ہونے کے بعد نیب نے 20 اگست کو احتساب عدالت میں توشہ خانہ ٹو کیس کا باضابطہ ریفرنس دائر کیا تھا۔ آج اڈیالہ جیل راولپنڈی میں قائم عدالت میں اس مقدمے کی سماعت ہوئی، جہاں اسپیشل جج سینٹرل شاہ رخ ارجمند نے کیس کی کارروائی مکمل ہونے کے بعد فیصلہ سنایا۔ عدالت کو بتایا گیا کہ ملزمان کے 342 کے بیانات قلمبند ہو چکے ہیں جبکہ فریقین کے حتمی دلائل بھی مکمل کیے جا چکے تھے۔ یاد رہے کہ اس کیس کی آخری باقاعدہ سماعت 16 اکتوبر کو ہوئی تھی، جس کے بعد مختلف وجوہات کی بنا پر سماعت تین مرتبہ ملتوی ہوتی رہی۔ آج کی کارروائی میں بانی پی ٹی آئی کے وکیل بیرسٹر سلمان صفدر عدالت میں پیش ہوئے۔عدالت نے اپنے فیصلے میں بانی پی ٹی آئی اور بشریٰ بی بی کو دو مختلف دفعات کے تحت سزا سنائی۔ ایک دفعہ میں دونوں کو دس، دس سال قید جبکہ دوسری دفعہ کے تحت سات، سات سال قید کی سزا دی گئی، جس کے نتیجے میں مجموعی طور پر دونوں کی سزا سترہ، سترہ سال بنتی ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ عدالت نے دونوں ملزمان پر مجموعی طور پر ایک کروڑ چونسٹھ لاکھ روپے جرمانہ بھی عائد کیا ہے۔







Discussion about this post