بھارت کی جانب سے آبی دباؤ کے خدشات پر پاکستان نے سفارتی سطح پر باضابطہ اقدام کرتے ہوئے نئی دہلی سے رابطہ قائم کر لیا ہے اور دریائے چناب میں پانی کی اچانک اور غیر معمولی کمی پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔ پاکستان کے سندھ طاس کمشنر نے یہ معاملہ بھارتی حکام کے سامنے اٹھاتے ہوئے دریائے چناب میں بہاؤ میں نمایاں کمی کی وجوہات پر وضاحت طلب کی ہے۔ انڈس واٹر کمشنر کی جانب سے سندھ طاس معاہدے کے دائرہ کار میں رہتے ہوئے بھارتی ہم منصب سے تفصیلی تکنیکی اور آپریشنل معلومات فراہم کرنے کا مطالبہ بھی کیا گیا ہے۔ وزارت آبی وسائل کے مطابق پاکستان نے واضح مؤقف اختیار کیا ہے کہ سندھ طاس معاہدے کے تحت کسی بھی آبی ذخیرے کا ڈیڈ اسٹوریج خالی کرنا ممنوع ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ 17 دسمبر کے بعد چناب کے بہاؤ میں بہتری کے آثار سامنے آئے ہیں، جبکہ محکمہ آبپاشی مسلسل دریا کی صورتحال پر نظر رکھے ہوئے ہے۔ مرالہ کے مقام پر جموں اور مناور نالے سے آنے والے پانی کی کڑی نگرانی کی جا رہی ہے، اور پنجاب کا محکمہ آبپاشی پانی کے بہاؤ سے متعلق تازہ اعداد و شمار باقاعدگی سے انڈس واٹر کمشنر کے دفتر کے ساتھ شیئر کر رہا ہے۔ وزارت نے بتایا کہ شدید کمی کے بعد اب دریائے چناب کے بہاؤ میں استحکام آنا شروع ہو گیا ہے اور مرالہ کے مقام پر پانی کی مقدار دوبارہ معمول کی حد کے قریب پہنچ رہی ہے۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق 10 سے 16 دسمبر کے دوران چناب میں پانی کا بہاؤ گزشتہ دس برس کی اوسط سے بھی کہیں کم رہا، اور ایک موقع پر یہ سطح کم ہو کر صرف 870 کیوسک تک آ گئی تھی۔ حکام کے مطابق گزشتہ ایک دہائی میں انہی دنوں کے دوران کم ازکم بہاؤ عموماً 4018 سے 4406 کیوسک کے درمیان رہا ہے، جو حالیہ کمی کی سنگینی کو واضح کرتا ہے۔ مزید برآں سیٹلائٹ تصاویر میں بگلیہار ڈیم کے ذخائر کے خالی کیے جانے اور بعد ازاں دوبارہ بھرنے کے شواہد بھی سامنے آئے ہیں، جس نے پاکستان کے خدشات کو مزید تقویت دی ہے۔یہ پیش رفت ایک بار پھر اس حقیقت کو اجاگر کرتی ہے کہ خطے میں آبی وسائل کا معاملہ محض تکنیکی نہیں بلکہ ایک حساس سفارتی اور اسٹریٹجک مسئلہ بن چکا ہے، جس پر پاکستان پوری سنجیدگی سے نظر رکھے ہوئے ہے۔







Discussion about this post