امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے قوم سے خطاب میں دعویٰ کیا ہے کہ انہیں کرپٹ نظام کے خاتمے کے لیے بھاری عوامی مینڈیٹ ملا ہے اور بائیڈن دور کی پالیسیاں کسی صورت دوبارہ نافذ نہیں ہونے دی جائیں گی۔ صدر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ ایک سال کے مختصر عرصے میں انہوں نے وہ کامیابیاں حاصل کیں جو ماضی میں کوئی حاصل نہ کر سکا۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ محض دس مہینوں میں آٹھ جنگیں رکوائی گئیں، جو عالمی سطح پر امن کی جانب ایک غیر معمولی پیش رفت ہے۔ خطاب کے دوران ٹرمپ نے کہا کہ امریکا کو مزید قانون سازی نہیں بلکہ ایک مضبوط اور فیصلہ کن قیادت کی ضرورت تھی، اور یہی وہ خلا تھا جسے انہوں نے پُر کیا۔ ان کے بقول ایک سال پہلے امریکا ناکامی کے دہانے پر کھڑا تھا، مگر آج وہ بدترین حالات سے نکل کر بہترین مقام پر پہنچ چکا ہے۔ صدر ٹرمپ نے کہا کہ ان کے دور میں امریکی شہریوں کی تنخواہوں میں نمایاں اضافہ ہوا جبکہ اشیائے خورونوش سمیت دیگر ضروریاتِ زندگی کی قیمتوں میں واضح کمی آئی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ مہنگائی پر قابو پا لیا گیا ہے اور آج امریکا میں برسرِ روزگار افراد کی تعداد ملکی تاریخ کی بلند ترین سطح پر ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ ٹیرف پالیسی کی بدولت معیشت کو مستحکم کیا گیا اور کھربوں ڈالر کی سرمایہ کاری ممکن بنائی گئی، جبکہ ٹیکسوں میں کی گئی کمی کے مثبت اثرات آئندہ برس مزید نمایاں ہوں گے۔ صدر ٹرمپ نے بائیڈن دور کی گرین انرجی پالیسیوں پر شدید تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ان اقدامات نے امریکی معیشت کو نقصان پہنچایا، جبکہ ان کی حکومت نے عملی اصلاحات کے ذریعے صنعت اور روزگار کو فروغ دیا۔

امیگریشن کے معاملے پر بات کرتے ہوئے ٹرمپ نے کہا کہ بائیڈن دور میں غیر قانونی تارکین وطن نے امریکیوں کی نوکریاں چھینیں، مگر ان کے دور میں پیدا ہونے والی تمام نئی نوکریاں امریکا میں پیدا ہونے والے شہریوں کو دی گئیں۔ ان کا کہنا تھا کہ سرحدوں کو محفوظ بنا دیا گیا ہے اور غیر قانونی آمد و رفت کا سلسلہ مکمل طور پر بند کر دیا گیا ہے۔صدر ٹرمپ نے واضح کیا کہ غیر قانونی تارکین وطن کو کسی صورت امریکا میں داخل ہونے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ انہوں نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ منشیات کی اسمگلنگ کو زمینی اور سمندری راستوں سے 94 فیصد تک کم کر دیا گیا ہے۔ قوم سے خطاب میں ٹرمپ نے کہا کہ امریکا کے پاس دنیا کی طاقتور ترین فوج موجود ہے اور قومی سلامتی کو ہر سطح پر یقینی بنایا گیا ہے۔ انہوں نے ہاؤسنگ سیکٹر میں اصلاحات کا اعلان بھی کیا اور بتایا کہ کرسمس کے موقع پر امریکی فوجیوں کو فی کس 1776 ڈالر دیے جائیں گے۔ عالمی امور پر بات کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ انہوں نے ایران کے جوہری خطرے کو ختم کیا، غزہ کی جنگ رکوا کر تین ہزار سال میں پہلی بار امن قائم کیا، اور یرغمالیوں کی زندہ یا ہلاک حالت میں واپسی کو یقینی بنایا۔ خطاب کے اختتام پر صدر ٹرمپ نے کہا کہ امریکا کو ایک بار پھر عظیم بنایا جا رہا ہے اور ان کی قیادت نے یہ ثابت کر دیا ہے کہ مضبوط فیصلے ہی قوموں کی تقدیر بدلتے ہیں۔







Discussion about this post