تار
English
  • پاکستان
  • جہاں نامہ
  • صنف
  • ادب
  • اینٹرٹینمٹ
  • ویڈیوز
  • کھیل
  • کاروبار
  • صحافت
  • تجزیئے
No Result
View All Result
  • پاکستان
  • جہاں نامہ
  • صنف
  • ادب
  • اینٹرٹینمٹ
  • ویڈیوز
  • کھیل
  • کاروبار
  • صحافت
  • تجزیئے
No Result
View All Result
No Result
View All Result
تار

عمر کی بنیاد پر پابندیاں بچوں کو آن لائن محفوظ نہیں رکھ سکتیں، یونیسف

by ویب ڈیسک
دسمبر 12, 2025
cell phone
Share on FacebookShare on Twitter

دنیا بھر میں سوشل میڈیا کے استعمال کے لیے بچوں کی عمر کے تعین پر بحث شدت پکڑ رہی ہے، مگر اقوامِ متحدہ کے ادارہ برائے اطفال (یونیسف) نے خبردار کیا ہے کہ صرف عمر کی حد مقرر کر دینا مسئلے کا مکمل حل نہیں۔ یونیسف کے مطابق نیک نیتی سے لگائی گئی یہ پابندیاں بعض اوقات ایسے غیر ارادی خطرات کو جنم دے سکتی ہیں جو بچوں کو محفوظ رکھنے کے بجائے انہیں مزید کمزور بنا دیں۔ادارے کا کہنا ہے کہ مختلف ممالک اگرچہ کم از کم عمر کے قوانین نافذ کر رہے ہیں، لیکن یہ اقدامات تنہا بچوں کی آن لائن حفاظت کے لیے کافی نہیں۔ یونیسف نے واضح کیا کہ سوشل میڈیا پر پابندیاں ایک طرف بچوں کے تحفظ کے عزم کی علامت ہیں، تو دوسری جانب یہی فیصلے کبھی کبھار منفی اثرات بھی مرتب کر دیتے ہیں، جن پر سنجیدگی سے غور کرنے کی ضرورت ہے۔

cell phone

یونیسف کے مطابق آج کے دور میں سوشل میڈیا بچوں کے لیے محض رابطے کا ذریعہ نہیں رہا بلکہ تعلیم، سیکھنے، دوستی، کھیل اور اپنی شناخت کے اظہار کا اہم پلیٹ فارم ہے۔ خاص طور پر وہ بچے جو تنہائی کا شکار ہیں یا سماجی طور پر الگ رہتے ہیں، ان کے لیے آن لائن دنیا ایک سہارا بن جاتی ہے۔ پابندیاں چاہے کتنی ہی سخت کیوں نہ ہوں، بچے اکثر متبادل راستے ڈھونڈ لیتے ہیں ،  مشترکہ ڈیوائسز سے لے کر کم ریگولیٹڈ پلیٹ فارمز تک  جس سے ان کی نگرانی اور حفاظت مزید مشکل ہو جاتی ہے۔ادارے نے زور دیا کہ عمر کی پابندیاں کسی وسیع اور متوازن حکمتِ عملی کا حصہ ہونی چاہئیں، ایسی حکمتِ عملی جو بچوں کو آن لائن نقصان سے بچائے، ان کی پرائیویسی اور اظہار کے حقوق کا احترام کرے اور انہیں غیر محفوظ آن لائن جگہوں کی طرف دھکیلنے سے گریز کرے۔ صرف قوانین کافی نہیں، ٹیکنالوجی کمپنیاں بھی اس وقت تک ذمہ داری پوری نہیں کر سکتیں جب تک وہ اپنے پلیٹ فارمز کے ڈیزائن، حفاظتی فیچرز اور مواد کی نگرانی کو بہتر نہ بنائیں۔یونیسف نے حکومتوں، ریگولیٹرز اور ڈیجیٹل پلیٹ فارمز سے اپیل کی کہ وہ بچوں اور ان کے خاندانوں کے ساتھ مل کر ایسا ماحول تشکیل دیں جو محفوظ ہو، شمولیت پر مبنی ہو، اور بچوں کے بنیادی حقوق کی مکمل پاسداری کرے  تاکہ ہر بچہ ڈیجیٹل دنیا میں اعتماد اور تحفظ کے ساتھ قدم رکھ سکے۔

Previous Post

عالمی برادری افغان حکومت پر ذمہ داریوں کی ادائیگی کیلئے زور ڈالے

Next Post

کراچی : پہلی بار فضائی ای چالان کا آغاز

Next Post
traffic 2

کراچی : پہلی بار فضائی ای چالان کا آغاز

Discussion about this post

تار نامہ

children

یتیم بچوں اور بیواؤں کے لیے ’وزیراعلیٰ پنجاب رحمت کارڈ‘ متعارف کرانے کا فیصلہ

port

پاکستانی بندرگاہوں کی عارضی بندش سے متعلق زیرِ گردش نوٹیفکیشن جعلی ہے

ayat al khumani 2

ایرانی سپریم لیڈر خامنہ ای کی نماز جنازہ کیوں مؤخر ہوئی ؟

currency note

نئے کرنسی نوٹ کیسے حاصل کریں؟

dog

پنجاب میں 2 سال کے دوران 4 لاکھ 36 ہزار سے زائد کتوں کے کاٹنے کے واقعات

تار

  • ہمارے بارے میں
  • پرائیویسی پالیسی

No Result
View All Result
  • پاکستان
  • جہاں نامہ
  • صنف
  • ادب
  • اینٹرٹینمٹ
  • ویڈیوز
  • کھیل
  • کاروبار
  • صحافت
  • تجزیئے

Welcome Back!

Login to your account below

Forgotten Password?

Retrieve your password

Please enter your username or email address to reset your password.

Log In

Add New Playlist