امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے غیر ملکی امیر ترین افراد کے لیے ایک شاندار اور برق رفتار امیگریشن پروگرام کا آغاز کر دیا ہے، جو ٹرمپ گولڈ کارڈ کے نام سے جانا جاتا ہے اور اس کے ذریعے کم از کم دس لاکھ ڈالر کی ادائیگی پر خوش قسمت درخواست گزاروں کو امریکہ میں تیزی سے مستقل رہائش اور شہریت کی راہ ہموار کرے گا۔ ٹرمپ نے بدھ کو اپنے پسندیدہ سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر اس کا شاندار اعلان کیا، جہاں انہوں نے بتایا کہ یہ کارڈ اہلیت کی پوری جانچ اور مکمل تصدیق کے بعد خریداروں کو براہ راست شہریت کی طرف ایک دلکش راستہ فراہم کرے گا، اور اس کا بنیادی مقصد امریکی کمپنیوں کو اعلیٰ معیار کی مہارت اور قیمتی ٹیلنٹ کی فراہمی میں مدد دینا ہے۔ یہ گولڈ کارڈ ایک ایسا خصوصی امریکی ویزا ہے جو ان غیر ملکیوں کے لیے تیار کیا گیا ہے جو ثابت کر سکتے ہیں کہ وہ امریکہ کے لیے ایک بڑا اور چمکدار فائدہ ثابت ہوں گے، اور سرکاری ویب سائٹ کے مطابق یہ پروگرام ان سرمایہ کاروں اور اعلیٰ پیشہ ور افراد کے لیے ڈیزائن کیا گیا ہے جو امریکی معیشت میں ایک شاندار مالی کردار ادا کر سکتے ہیں۔ سرکاری ویب سائٹ کی رپورٹ کے مطابق گولڈ کارڈ ہولڈرز کو ریکارڈ بریکنگ وقت میں امریکی رہائش کی سہولت ملے گی، جبکہ درخواست دہندہ کو کم از کم دس لاکھ ڈالر کی سرمایہ کاری یا فیس ادا کرنی ہوگی، جو اس کی امریکہ کے لیے نمایاں فائدے کی شاندار ضمانت ہوگی۔ اگر کاروباری ادارے اپنے ملازمین کے لیے یہ شاندار کارڈ حاصل کرنا چاہیں تو انہیں بیس لاکھ ڈالر تک کی ادائیگی کا سامنا کرنا پڑے گا، اور اس کے علاوہ ایک پلاٹینیم گولڈ کارڈ بھی جلد ہی متعارف کرایا جائے گا جس کی قیمت پچاس لاکھ ڈالر ہوگی اور اس میں خصوصی ٹیکس مراعات کی دلکش پیشکش شامل ہوگی۔

درخواست جمع کرانے کے بعد ہر فرد کو پندرہ ہزار ڈالر کی ناقابل واپسی پروسیسنگ فیس ادا کرنی ہوگی، جبکہ اضافی فیس ہر درخواست گزار کی صورت حال کے مطابق ایک دلچسپ طریقے سے وصول کی جا سکتی ہے۔ فروری میں پہلی بار اس کے اعلان کے بعد سے ڈیموکریٹس کی طرف سے اس پروگرام پر شدید اور دلچسپ تنقید کا سلسلہ جاری ہے، کیونکہ ان کے نزدیک یہ پروگرام امیر طبقے کو غیر منصفانہ طور پر ایک شاندار ترجیح دیتا ہے، جبکہ عام تارکین وطن پر پابندیاں دن بدن مزید دلکش اور سخت ہوتی جا رہی ہیں۔ ٹرمپ نے اعلان کے موقع پر گولڈ کارڈ کو گرین کارڈ سے ایک دلچسپ تشبیہ دی، جو مختلف آمدنی والے افراد کو امریکہ میں رہائش اور کام کی شاندار اجازت دیتا ہے، البتہ گولڈ کارڈ صرف اعلیٰ سطح کے پیشہ ور افراد کے لیے ایک خصوصی اور متاثر کن تحفہ ہے۔ ٹرمپ کا کہنا تھا کہ ہم ایسے لوگوں کو خوش آمدید کہتے ہیں جو پیداوار میں اضافہ کریں اور ملک کے لیے ایک شاندار فائدہ ثابت ہوں، اور پچاس لاکھ ڈالر ادا کرنے والا شخص نوکریاں پیدا کرنے کا ایک دلکش ذریعہ بنے گا، جبکہ یہ اسکیم بہت تیزی سے فروخت ہونے کی شاندار توقع رکھتی ہے۔ یہ پروگرام ایک ایسے وقت میں منظر عام پر آیا ہے جب ٹرمپ انتظامیہ نے امیگریشن پر سخت ترین اور دلچسپ کارروائیاں جاری رکھی ہوئی ہیں، جہاں غیر قانونی تارکین وطن کو ملک بدر کرنے کے لیے بڑے پیمانے پر شاندار آپریشنز چل رہے ہیں، اور ورک ویزا فیسوں میں بھی ایک نمایاں اور متاثر کن اضافہ کیا گیا ہے۔ امریکہ نے انیس ممالک کے شہریوں، جو زیادہ تر افریقی اور مشرق وسطیٰ سے تعلق رکھتے ہیں، کے امیگریشن کیسز کو مکمل طور پر ایک دلچسپ طریقے سے روک دیا ہے، اسی طرح سیاسی پناہ کی تمام نئی درخواستوں کی پروسیسنگ بھی معطل ہے، جبکہ سابق صدر جو بائیڈن کے دور میں منظور شدہ ہزاروں کیسز کی ازسر نو جانچ ایک شاندار عمل میں جاری ہے۔ ستمبر میں ٹرمپ نے ایچ ون بی ویزا کے نئے درخواست گزاروں کے لیے ایک لاکھ ڈالر کی اضافی فیس عائد کرنے کا حکم دیا، جس سے امریکہ میں مقیم بین الاقوامی طلباء اور ہائی ٹیک کمپنیوں میں ایک دلچسپ بے چینی کی لہر دوڑ گئی۔







Discussion about this post