چیئرمین پاکستان تحریک انصاف، بیرسٹر گوہر، نے پارلیمنٹ ہاؤس کے باہر میڈیا سے گفتگو میں حکومت پر سخت تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ موجودہ حالات کسی کے کنٹرول میں نہیں رہیں گے۔ اُن کا کہنا تھا کہ "یہ کاروباری دنیا نہیں ہے کہ دو میں سے ایک مائنس کرو تو ایک رہ جائے گا، اگر ایک مائنس ہوا تو اس کے بعد ایک بھی باقی نہیں رہے گا۔” بیرسٹر گوہر نے کہا کہ خان صاحب کی بہنوں پر واٹر کینن کے استعمال جیسے واقعات نے صبر کا پیمانہ لبریز کر دیا ہے اور یہ واضح کر دیا کہ عوامی احتجاج اور سیاسی مظاہروں کے خلاف حد سے زیادہ طاقت کا استعمال کیا جا رہا ہے۔ اُن کا کہنا تھا کہ خان صاحب سے ملاقاتوں کی اجازت نہیں دی جا رہی، اور جو لوگ ملاقات کے لیے آتے ہیں، اُن پر بھی واٹر کینن استعمال کیا جاتا ہے۔ انہوں نے حکومت سے سوال کیا کہ بشریٰ بی بی کی فیملی کی پریس کانفرنسز پر اجازت کیوں دی جاتی ہے مگر خان صاحب کے حق میں ملاقاتیں کیوں روکی جا رہی ہیں۔

بیرسٹر گوہر نے واضح کیا کہ اگر حالات ایسے ہی رہے تو ملک میں صورتحال مکمل طور پر قابو سے باہر ہو جائے گی، اور کوئی بھی اسے کنٹرول نہیں کر سکے گا۔ چیئرمین پی ٹی آئی نے کہا کہ وہ تین کروڑ عوام کی نمائندگی کر رہے ہیں اور سسٹم کا حصہ اس لیے ہیں تاکہ ملک میں جمہوریت قائم رہے۔ اُنہوں نے حکومت پر الزام لگایا کہ وہ فیڈریشن کے یونٹس کو ایک دوسرے کے خلاف کھڑا کر رہے ہیں اور پارٹی کے خلاف اقدامات کرنے کی کوشش کر رہے ہیں، جبکہ ابھی تک سرٹیفیکیٹ بھی قبول نہیں کیا گیا۔ بیرسٹر گوہر نے خبردار کیا کہ موجودہ رویہ جاری رہا تو مہینے کے اندر حالات مکمل طور پر حکومت کے قابو سے باہر ہو جائیں گے۔






Discussion about this post