بلوچستان کے علاقے سوئی میں ایک بڑی اور غیر معمولی پیشرفت سامنے آئی ہے جہاں کالعدم تنظیم سے تعلق رکھنے والے کمانڈر سمیت ایک سو سے زائد افراد نے ہتھیار ڈال کر ریاستِ پاکستان سے وفاداری کا اعلان کر دیا۔ یہ منظر اس وقت مزید پُراثر ہو گیا جب انہوں نے اسلحہ زمین پر رکھ کر پاکستان کا پرچم تھاما اور ملک کے ساتھ اپنی وابستگی کا حلف لیا۔حکام کے مطابق تنظیم کے سرکردہ کمانڈر وڈیرہ نور علی چاکرانی اور ان کے ساتھیوں نے اپنا اسلحہ میر آفتاب احمد بگٹی کے حوالے کیا۔ اس موقع پر علاقے میں امن، اتحاد اور یکجہتی کی ایک نئی لہر محسوس کی گئی، جسے مقامی افراد نے بھی خوش آئند قرار دیا۔ وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے اس موقع پر ہتھیار ڈالنے والے افراد اور رہنماؤں کو قومی دھارے میں واپس آنے پر مبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان کا پرچم تھامنا اس بات کی دلیل ہے کہ انہوں نے امن، ترقی اور استحکام کے راستے کا انتخاب کیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ قدم بلوچستان میں ایک مثبت تبدیلی کی علامت ہے۔ وزیراعلیٰ نے واضح کیا کہ ریاست نے کبھی بھی بات چیت اور مفاہمت کے دروازے بند نہیں کیے۔ ان کے مطابق بلوچستان میں ریاست مخالف عناصر کے خلاف کارروائیاں جاری رہیں گی، مگر جو لوگ ہتھیار چھوڑ کر آئین و قانون کو تسلیم کریں گے، انہیں سینے سے لگایا جائے گا اور معاشرے کا مفید حصہ بنایا جائے گا۔ سرفراز بگٹی نے سخت لہجے میں یہ بھی کہا کہ جو لوگ ریاست کی نرمی کو کمزوری سمجھیں گے، ان کا آخری دم تک تعاقب کیا جائے گا۔ ریاست کی رِٹ پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہوگا، اور امن کو سبوتاژ کرنے والوں کے لیے کوئی رعایت نہیں۔ یہ پیشرفت بلوچستان میں امن کی جانب ایک مضبوط قدم کے طور پر دیکھی جا رہی ہے اور امید ظاہر کی جا رہی ہے کہ آنے والے دنوں میں مزید شدت پسند عناصر بھی ہتھیار چھوڑ کر قومی دھارے میں شامل ہوں گے۔







Discussion about this post