ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹس اسلام آباد نے سوشل میڈیا پر پاک فوج کے خلاف مبینہ پروپیگنڈے سے متعلق درج مقدمات میں بڑا قدم اٹھاتے ہوئے صحافیوں احمد نورانی، جمیل فاروقی اور تحریکِ انصاف کی رہنما سیمابیہ طاہر کو اشتہاری قرار دے دیا ہے۔ جوڈیشل مجسٹریٹ محمد عباس شاہ کی جانب سے جاری کیے گئے تحریری حکم نامے میں کہا گیا ہے کہ تینوں ملزمان متعدد بار طلبی کے باوجود عدالت میں پیش نہیں ہوئے، جس کے بعد قانون کے مطابق انہیں اشتہاری قرار دینے کا فیصلہ کیا گیا۔ عدالت نے ان کے دائمی وارنٹِ گرفتاری جاری کرنے کا بھی حکم دے دیا ہے، تاکہ انہیں قانون کے کٹہرے میں لایا جا سکے۔ عدالتی دستاویزات کے مطابق تینوں افراد کے خلاف الگ الگ مقدمات درج ہیں، جن کا چالان نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی نے مکمل کر کے عدالت میں جمع کرا دیا ہے۔ این سی سی آئی اے نے یہ مقدمات رواں سال جولائی اور اگست میں درج کیے تھے، جن میں سوشل میڈیا کے ذریعے ریاستی اداروں کے خلاف اشتعال انگیز اور منفی مواد پھیلانے کے الزامات شامل ہیں۔ اسی تناظر میں ترجمان پاک فوج کا کہنا ہے کہ ایک شخص قومی سلامتی کے لیے خطرہ بنا ہوا ہے، جو یہ سمجھتا ہے کہ اگر وہ نہیں تو کچھ بھی نہیں۔ ایسے عناصر کسی بھی صورت عوام کو گمراہ کرنے اور ملکی اداروں کے خلاف نفرت پھیلانے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب سوشل میڈیا کے غلط استعمال اور ریاستی اداروں کے خلاف منظم مہمات کے خلاف کارروائیاں مزید تیز کر دی گئی ہیں، اور قانون نافذ کرنے والے ادارے اس بات کے لیے پرعزم نظر آ رہے ہیں کہ قومی سلامتی پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہ ہونے دیا جائے۔







Discussion about this post