پاکستان اور افغانستان کے درمیان سعودی عرب میں ہونے والے ممکنہ مذاکرات سے متعلق دفتر خارجہ نے لاعلمی کا اظہار کیا ہے۔ ترجمان دفتر خارجہ کے مطابق میڈیا میں چلنے والی رپورٹس تو ضرور دیکھی گئی ہیں، مگر ایسے کسی اجلاس یا بات چیت کے بارے میں انہیں باضابطہ طور پر کوئی علم نہیں ہے۔ ترجمان نے واضح کیا کہ پاکستان، ترکیہ کے صدر کی جانب سے ثالثی کی پیشکش کا خیر مقدم کرتا ہے اور اگر ترکیہ کا وفد پاکستان آتا ہے تو اسے خوش آمدید کہا جائے گا۔ انہوں نے اس تاثر کو بھی مسترد کیا کہ ترکیہ کے وفد کے دورہ نہ کرنے کی وجہ پاکستان کا عدم تعاون ہے، اور کہا کہ پاکستان مذاکرات کے لیے ہر وقت تیار ہے۔ ترجمان طاہر اندرابی کے مطابق موجودہ صورتحال کے باعث پاکستان نے افغانستان کے ساتھ بعض سرحدی گزرگاہیں بند کی تھیں، تاہم اب افغانستان کی جانب سے بھی سرحدیں بند کر دی گئی ہیں، جس پر وہ خود بہتر جواب دے سکتے ہیں۔ فی الوقت سرحدیں صرف امدادی سرگرمیوں کے لیے کھولی گئی ہیں۔ انہوں نے کرغزستان کے صدر کے حالیہ دورہ پاکستان پر بھی روشنی ڈالتے ہوئے بتایا کہ کرغز صدر اور وزیراعظم کے درمیان وفود کی سطح پر اہم ملاقاتیں ہوئیں، جن میں دوطرفہ تعلقات کو مزید مضبوط بنانے پر اتفاق کیا گیا۔ دونوں ممالک نے اس بات پر بھی رضامندی ظاہر کی کہ باہمی تجارتی حجم کو 2027-28 تک 200 ملین ڈالر تک پہنچایا جائے گا۔

ترجمان کے مطابق اس دورے کے دوران 15 مفاہمتی یادداشتوں پر دستخط کیے گئے، جبکہ کرغز صدر نے ایک بزنس فورم سے بھی خطاب کیا، جس میں 20 سے زائد کرغز کمپنیاں اور 80 سے زیادہ پاکستانی تاجر شریک ہوئے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے کرغزستان کے صدر اور وزیر خارجہ سے ملاقاتیں کیں، جبکہ مصر کے وزیر خارجہ نے بھی پاکستان کا دورہ کیا۔ اس کے علاوہ اسحاق ڈار نے اسلام آباد کانکلیو کا افتتاح بھی کیا، جس میں مختلف ممالک کے نمائندوں نے شرکت کی۔







Discussion about this post