کراچی کے علاقے گلشن اقبال نیپا چورنگی کے قریب ایک دلخراش واقعے کی تحقیقاتی رپورٹ میونسپل کارپوریشن (کے ایم سی) نے سیکریٹری محکمہ بلدیات کو ارسال کر دی ہے، جس میں بچوں کی حفاظت کے لیے ناگزیر اقدامات کی کمی واضح طور پر سامنے آئی ہے۔ سینئر ڈائریکٹر میونسل سروسز عمران راجپوت کے مطابق میئر کراچی کے حکم پر میونسپل سروسز نے فوری طور پر بچے کی تلاش کے لیے آپریشن شروع کیا۔ رپورٹ کے مطابق گلشن ٹاؤن کے لنک نالے سے بچے ابراہیم کی لاش برآمد ہوئی، اور معائنے میں یہ بات سامنے آئی کہ حادثے کی بنیادی وجہ بی آر ٹی کی تعمیرات تھیں۔ کھدائی کے دوران نالے کے نکاسی نظام کو شدید نقصان پہنچا، جس سے حفاظتی انتظامات ناکافی ثابت ہوئے۔ رپورٹ میں بتایا گیا کہ نالے کو عارضی طور پر دو فٹ کے کور سے بند کرنے کی کوشش کی گئی تھی، لیکن ریڈ لائن منصوبے کی جانب سے ایک مین ہول کھلا رہنے کی وجہ سے یہ سانحہ ہوا۔ رپورٹ کے مطابق یہ طریقہ کار اور غیرمعیاری ڈھکن کبھی بھی کے ایم سی کے معیار کے مطابق نہیں تھے۔
سی سی ٹی وی فوٹیج سے یہ بات بھی سامنے آئی ہے کہ بی آر ٹی نے کام شروع کرنے سے پہلے کے ایم سی کو آگاہ نہیں کیا۔ کھدائی کے دوران نجی اسٹور کی انتظامیہ اور بی آر ٹی کی مشترکہ لاپرواہی کی وجہ سے بچہ گٹر میں جا گرا۔ بعد ازاں افسران کی نگرانی میں کھدائی شدہ تمام حصے بھر دیے گئے، جس سے حادثے کی تحقیقات میں تاخیر ہوئی۔ واضح رہے کہ اتوار کی شب تقریباً 10 بجے تین سالہ ابراہیم والدین کے ہمراہ ڈپارٹمنٹل اسٹور کے قریب مین ہول پر کھڑا ہوا، جس کا ڈھکن عارضی طور پر گتے سے بند کیا گیا تھا۔ بچے کا وزن اس عارضی ڈھکن کو برداشت نہ کر سکا، اور وہ مین ہول میں گر کر لاپتہ ہوگیا۔ بچہ 15 گھنٹے بعد تقریباً ایک کلومیٹر دور نالے سے برآمد ہوا۔ یہ واقعہ نہ صرف انتظامی غفلت کی عکاسی کرتا ہے بلکہ شہری زندگی اور بچوں کی حفاظت کے حوالے سے موجود خطرات کی بھی سخت نشاندہی کرتا ہے۔







Discussion about this post