بھارتی وزیرِ دفاع راج ناتھ سنگھ کے پاکستان سے متعلق متنازع بیان نے سکھ برادری میں شدید غم و غصے کی لہر دوڑا دی، جس کے نتیجے میں کینیڈا میں بھارتی ہائی کمیشن کے سامنے بھرپور احتجاجی مظاہرہ کیا گیا۔ سکھ مظاہرین نے مودی حکومت کے خلاف نعرے لگائے اور خالصتان کے حق میں آواز بلند کی۔ مظاہرے سے خطاب کرتے ہوئے سکھ کمیونٹی کے رہنماؤں نے کہا کہ راج ناتھ کو پاکستان کے صوبہ سندھ پر بیان دینے کے بجائے اپنے ملک کے بگڑتے حالات پر توجہ دینی چاہیے، کیونکہ بھارت اس وقت اندرونی انتشار، ناانصافی اور سیاسی عدم استحکام کا شکار ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایسے حالات میں بھارت کے مستقبل پر خود سوالیہ نشان لگ چکا ہے۔ سکھ رہنماؤں نے دعویٰ کیا کہ بھارتی پنجاب جلد بھارت سے الگ ہو کر خالصتان کی آزاد ریاست کی صورت اختیار کرے گا، جہاں تمام قومیتوں کو مساوی حقوق اور مکمل آزادی حاصل ہوگی۔

انہوں نے کہا کہ سکھ قوم اپنے حقِ خود ارادیت سے دستبردار نہیں ہوگی، چاہے اس کے لیے کتنی ہی جدوجہد کیوں نہ کرنی پڑے۔ مظاہرین نے بینرز اور پلے کارڈز اٹھا رکھے تھے جن پر مودی حکومت کے خلاف نعرے درج تھے، جبکہ فضا “خالصتان زندہ باد” کے نعروں سے گونجتی رہی۔ یہ مظاہرہ اس بات کا واضح ثبوت بن گیا کہ راج ناتھ کے بیان نے بیرون ملک مقیم سکھوں میں بھی شدید ردِعمل پیدا کر دیا ہے۔







Discussion about this post