تار
English
  • پاکستان
  • جہاں نامہ
  • صنف
  • ادب
  • اینٹرٹینمٹ
  • ویڈیوز
  • کھیل
  • کاروبار
  • صحافت
  • تجزیئے
No Result
View All Result
  • پاکستان
  • جہاں نامہ
  • صنف
  • ادب
  • اینٹرٹینمٹ
  • ویڈیوز
  • کھیل
  • کاروبار
  • صحافت
  • تجزیئے
No Result
View All Result
No Result
View All Result
تار

بارڈر مینجمنٹ پر سیکیورٹی اداروں کے حوالے سے گمراہ کن پروپیگنڈا کیا جاتا ہے

by ویب ڈیسک
نومبر 29, 2025
خیبرپختونخوا میں دہشتگردی کے پیچھے سیاسی اور مجرمانہ گٹھ جوڑ ہے
Share on FacebookShare on Twitter

ڈی جی آئی ایس پی آر لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے واضح کیا ہے کہ بارڈر مینجمنٹ کے حوالے سے سیکیورٹی اداروں کے خلاف پھیلایا جانے والا پروپیگنڈا بے بنیاد اور گمراہ کن ہے۔ اسلام آباد میں سینئر صحافیوں سے تفصیلی گفتگو میں انہوں نے بتایا کہ 4 نومبر 2025 سے اب تک دہشت گردی کے خلاف 4 ہزار 910 انٹیلیجنس بیسڈ آپریشنز کیے گئے، جب کہ رواں سال خیبر پختونخوا میں 12 ہزار 857 اور بلوچستان میں 53 ہزار 309 ایسے آپریشنز انجام دیے گئے جن میں مجموعی طور پر 206 دہشت گرد انجام کو پہنچے۔ لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری کے مطابق جاری سال میں مجموعی طور پر 1873 دہشت گرد مارے گئے جن میں 136 افغان شہری شامل تھے۔ انہوں نے کہا کہ پاک افغان سرحد انتہائی دشوار گزار خطہ ہے جہاں ہر انچ پر سیکیورٹی چیلنجز درپیش رہتے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ خیبر پختونخوا میں پاک افغان سرحد 1229 کلومیٹر طویل ہے جس پر مجموعی طور پر 20 کراسنگ پوائنٹس موجود ہیں، جبکہ متعدد مقامات پر سرحدی چوکیاں ایک دوسرے سے 20 سے 25 کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہیں۔ ان کے مطابق بارڈر فینسنگ اس وقت تک مکمل مؤثر نہیں ہو سکتی جب تک اسے آبزرویشن اور فائر کور میسر نہ ہو، اور اگر ہر چند کلومیٹر پر قلعہ بندی اور جدید ڈرون نگرانی کا نظام بنایا جائے تو اس کے لیے غیر معمولی وسائل درکار ہوتے ہیں۔

ڈی جی آئی ایس پی آر نے اس حقیقت کی جانب بھی اشارہ کیا کہ خیبر پختونخوا کے بارڈر کے دونوں طرف منقسم گاؤں اور آبادیوں کی موجودگی آمدورفت کو کنٹرول کرنے میں ایک بڑا چیلنج ہے۔ انہوں نے کہا کہ دنیا بھر میں بارڈر مینجمنٹ دو ممالک کی مشترکہ ذمہ داری ہوتی ہے، لیکن بدقسمتی سے افغانستان کی جانب سے دہشت گردوں کی پاکستان میں دراندازی کے لیے طالبان انتظامیہ مسلسل سہولت کاری فراہم کر رہی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ افغان سرحد سے ملحقہ علاقوں میں گورننس کا عملی ڈھانچہ نہ ہونے کے برابر ہے جس کی وجہ سے دہشت گردی، اسمگلنگ اور منظم جرائم کا گٹھ جوڑ مزید طاقتور ہو چکا ہے۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ اگر سرحد پار سے دہشت گردوں کی آمد، غیر قانونی تجارت یا اسمگلنگ ہوتی ہے تو اندرونِ ملک اسے روکنا کن اداروں کی ذمہ داری بنتی ہے؟ لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے یہ بھی انکشاف کیا کہ صوبے میں لاکھوں نان کسٹم پیڈ گاڑیاں کھلے عام گردش کر رہی ہیں، جو نہ صرف غیر قانونی سرگرمیوں بلکہ خودکش حملوں میں بھی استعمال ہوتی ہیں۔ یہ گاڑیاں اس مضبوط پولیٹیکل ٹیرر کرائم نیکسس کا حصہ ہیں جو سرحدی علاقوں میں گورننس کے بحران کو مزید بڑھاتا ہے۔ آخر میں انہوں نے واضح کیا کہ پاکستان کا مؤقف دوحہ معاہدے کے حوالے سے بالکل صاف ہے: افغان طالبان کو ہر قسم کی دہشت گردانہ سہولت کاری روکنی ہوگی اور پاکستان کے خلاف سرگرم عناصر پر فوری طور پر قابو پانا ہوگا۔

Previous Post

امریکا نے افغان پاسپورٹ رکھنے والے تمام افراد کو ویزوں کا اجرا روک دیا

Next Post

صدر مملکت کا نیشنل ڈیفنس یونیورسٹی اسلام آباد کا دورہ

Next Post
asif

صدر مملکت کا نیشنل ڈیفنس یونیورسٹی اسلام آباد کا دورہ

Discussion about this post

تار نامہ

برٹنی اسپیئرز نشے کی حالت میں گاڑی چلانے پر گرفتار

برٹنی اسپیئرز نشے کی حالت میں گاڑی چلانے پر گرفتار

drone

پنجاب میں ’اینٹی ڈرون یونٹ‘ قائم کرنے کا فیصلہ

ricky martin

معروف گلوکار رکی مارٹن ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ کی اختتامی تقریب میں پرفارم کریں گے

iran 4

امریکی ٹی وی کی ایران کی بڑی جنگی کامیابیوں کی تصدیق

اگست میں بنگلہ دیش کی 2 کرکٹ  ٹیمیں آئیں گی

پاکستان کے خلاف ون ڈے سیریز، بنگلہ دیش اسکواڈ کا اعلان

تار

  • ہمارے بارے میں
  • پرائیویسی پالیسی

No Result
View All Result
  • پاکستان
  • جہاں نامہ
  • صنف
  • ادب
  • اینٹرٹینمٹ
  • ویڈیوز
  • کھیل
  • کاروبار
  • صحافت
  • تجزیئے

Welcome Back!

Login to your account below

Forgotten Password?

Retrieve your password

Please enter your username or email address to reset your password.

Log In

Add New Playlist