پلس , پرموٹنگ یونٹی اینڈ لیڈر شپ فار سوشل ایمپارومنٹ نے فورٹ بینڈ کاؤنٹی شوگر لینڈ لائبریری میں ایک شاندار اور مستقبل ساز ورکشاپ کا اہتمام کیا، جس میں 34 پرجوش نوجوانوں نے حصہ لے کر اپنی سوچ اور صلاحیتوں کے نئے افق دریافت کیے۔ اس خصوصی سیشن میں نوجوانوں کو اے آئی پر مبنی اسٹوری ٹیلنگ، آفات سے نمٹنے کی عملی تیاری، اور شہری ذمہ داری جیسے جدید اور بامقصد موضوعات پر جامع اور تخلیقی تربیت دی گئی۔

ورکشاپ میں یونیورسٹی آف ہیوسٹن، ہیوسٹن کمیونٹی کالج اور مختلف ہائی اسکولز کے طلبہ نے بھرپور دلچسپی کے ساتھ حصہ لیا اور سیکھا کہ کس طرح چیٹ جی پی ٹی، کلاوڈ، گوگل جیمنی اور گوگل نوٹ بُک ایل ایل ایم جیسے جدید پلیٹ فارم کمیونٹیز کو زیادہ باخبر، طاقتور اور خودمختار بنا سکتے ہیں۔

پلس کی کوفاؤنڈر اور ایگزیکٹو ڈائریکٹر ناجیہ اشعر نے نوجوانوں کو عملی مشقوں کے ذریعے اے آئی کے نئے زاویے دکھائے۔ ان کا کہنا تھا کہ آج کی دنیا میں اے آئی صرف ایک ٹیکنالوجی نہیں بلکہ ہر شخص کی ضرورت ہے، اور جب نوجوان اسے دانشمندی کے ساتھ استعمال کریں گے تو وہ ہیوسٹن جیسے شہر کی بنیادوں کو مزید مضبوط اور روشن بنا دیں گے۔

ورکشاپ کا آغاز پلس نیوز کی ڈائریکٹر کمیونٹی انگیجمنٹ علیحہ علی، کی معلوماتی بریفنگ سے ہوا، جنہوں نے جنوبی ایشیائی اور دیگر برادریوں میں موجود معلوماتی خلا کی نشاندہی کی۔ ان کے مطابق پلس نیوز کمیونٹی انگیجمنٹ، دو لسانی میڈیا اور بااختیار بنانے کے مشن کے ذریعے ان خلا کو کم کرنے کے لیے سرگرم ہے۔

شرکاء کو مختلف ٹیموں میں تقسیم کرکے ایک منٹ کی اے آئی جنریٹڈ ویڈیوز بنانے کا عملی چیلنج بھی دیا گیا، جن کے موضوعات براہِ راست ہیوسٹن کے اہم مسائل جیسے سیلاب سے حفاظت، آفات کے دوران جرائم کا ردعمل، ماحولیاتی آلودگی، ٹریفک اور سڑکوں کی حفاظت، نوجوانوں کی شہری ذمہ داری اور چھوٹے کاروبار کے چیلنجز سے متعلق تھے۔

پلس کے شریک بانی اور صدر فیصل عزیز خان، پلس نیوز ڈائریکٹرز نصرت حارث اور ارسلان علی بھی ورکشاپ میں موجود رہے اور انہوں نے نوجوانوں کی رہنمائی کے ساتھ اپنے تجربات بھی شیئر کیے۔پلس کے شریک بانی اور صدر فیصل عزیز خان کا کہنا تھا کہ تعلیم اور کہانی گوئی میں مصنوعی ذہانت کو شامل کرنا اب کوئی اختیاری نہیں رہا، بلکہ یہ ضروری ہوگیا ہے۔ ہم نوجوانوں کی حوصلہ افزائی کرتے ہیں کہ وہ شہری مسائل اور سماجی کہانیوں کو اُن جگہوں تک پہنچائیں جہاں معلومات تشکیل پاتی ہیں، بانٹی جاتی ہیں اور اُن پر عمل کیا جاتا ہے۔ یہی وہ طریقہ ہے جس سے معاشرے ترقی کرتے ہیں اور مضبوط بنتے ہیں۔

پلس نیوز ڈائریکٹر نصرت حارث نے کہا کہ اے آئی پر مبنی اسٹوری ٹیلنگ نوجوانوں کو اپنی کمیونٹیز کے کم نظر آنے والے مسائل اُجاگر کرنے اور ان کے حل کے لیے تخلیقی سوچ پیدا کرنے میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔اس موقع پر پلس کی ڈائریکٹر یوتھ افیئرز عریشہ فیصل کا کہنا تھا کہ جب نوجوان آگے بڑھ کر اپنی کیمونٹی کی کہانیاں سناتے ہیں تو وہ کلاس روم سے کہیں آگے تک اثر چھوڑ جاتی ہیں۔بنتے ہیں۔

یہ ورکشاپ نوجوانوں کے لیے ایک نیا، بامقصد اور متاثرکن تجربہ ثابت ہوئی۔ شرکاء نے کہا کہ یہ تربیت معلوماتی، حوصلہ افزا اور عملی زندگی میں بے حد کارآمد رہی۔ بیشتر نوجوانوں نے مستقبل میں پلس کے پروگراموں بشمول اے آئی لٹریسی، ملٹی میڈیا جرنلزم، سوک ایجوکیشن اور ریزیلینس ٹریننگ میں شامل ہونے کی خواہش ظاہر کی۔اس ورکشاپ نے نہ صرف علم کا خزانہ پیش کیا بلکہ نوجوان ذہنوں میں نئی اُمید، نیا شعور اور نئی توانائی بھی جگائی، ایک توانائی جو ہیوسٹن کی کمیونٹیز کو مزید متحد اور مضبوط بنائے گی۔








Discussion about this post