پنجاب اور خیبر پختونخوا میں ہونے والے ضمنی انتخابات میں پاکستان مسلم لیگ (ن) کی نمایاں کامیابی کے بعد وزیر اعظم شہباز شریف نے اپنی جماعت کے تمام فاتح امیدواروں کو مبارک باد دیتے ہوئے ان نتائج کو نواز شریف کی قیادت، کارکنوں کی محنت اور عوام کے بھرپور اعتماد کا مظہر قرار دیا ہے۔ ایوانِ وزیر اعظم سے جاری بیان میں شہباز شریف نے کہا کہ یہ کامیابیاں ثابت کرتی ہیں کہ پنجاب اور خیبر پختونخوا کے عوام نے مسلم لیگ (ن) کی پالیسیوں، کارکردگی اور عوامی خدمت کے ایجنڈے کو تسلیم کیا ہے۔ ان کے مطابق وزیر اعلیٰ مریم نواز کی شبانہ روز محنت نے ووٹرز کو حکومتی اقدامات پر مزید یقین دلایا۔ کامیاب امیدواروں میں این اے 185 ڈیرہ غازی خان سے سردار محمود قادر لغاری، پی پی 203 ساہیوال سے چوہدری حنیف جٹ، پی پی 87 میانوالی سے علی حیدر نور نیازی، پی پی 116 فیصل آباد سے احمد شہریار، پی پی 115 سے محمد طاہر پرویز، این اے 104 سے دانیال احمد اور پی پی 98 سے آزاد علی تبسم شامل ہیں۔ اسی طرح خیبر پختونخوا کے حلقہ این اے 18 ہری پور سے بابر نواز خان بھی کامیاب ہوئے۔اتوار کو ہونے والی پولنگ سخت سیکیورٹی میں صبح آٹھ بجے سے شام پانچ بجے تک بلاوقفہ جاری رہی۔ وفاقی وزیر اطلاعات عطا تارڑ کے مطابق مجموعی طور پر امن و امان کی صورتحال قابو میں رہی جبکہ ووٹرز کے بڑے پیمانے پر باہر آنے کو خوش آئند رجحان قرار دیا گیا۔ مسلم لیگ (ن) نے اپنے آفیشل ایکس اکاؤنٹ پر بھی کامیابی کا دعویٰ کرتے ہوئے کہا کہ ’’ شیر نے میدان مار لیا‘‘۔
الحمدللہ شیر نے میدان مار لیا
شکریہ عوام
شکریہ پنجاب
شکریہ پاکستان#VoteSirfSherKa pic.twitter.com/YlYUdd4RyW— PMLN (@pmln_org) November 23, 2025
دوسری جانب پی ٹی آئی نے لاہور اور ہری پور کے سوا تمام حلقوں میں باضابطہ بائیکاٹ کیا، جبکہ پیپلز پارٹی نے دو قومی اور ایک صوبائی نشست پر حصہ لیا۔ پنجاب میں ضمنی الیکشن زیادہ تر ان سیٹوں پر ہوا جو مئی 2023 کے واقعات کے بعد پی ٹی آئی ارکان کی نااہلی کے نتیجے میں خالی ہوئی تھیں۔ مجموعی طور پر 12 نشستوں پر 105 امیدوار میدان میں تھے جن میں سے زیادہ تر مقابلہ مسلم لیگ ن اور پی ٹی آئی کے حمایت یافتہ آزاد امیدواروں کے درمیان رہا۔ حزب اختلاف کی مختلف جماعتوں نے انتخابات پر دھاندلی کے الزامات بھی لگائے ہیں۔ پی ٹی آئی رہنما زلفی بخاری نے این اے 129 لاہور میں بے ضابطگیوں کا دعویٰ کیا۔یہ نتائج ایک بار پھر پنجاب کی سیاسی سمت واضح کرتے ہیں کہ موجودہ انتظامیہ پر عوام کا اعتماد برقرار ہے اور مسلم لیگ (ن) کی انتخابی پوزیشن مزید مضبوط ہوتی دکھائی دے رہی ہے۔







Discussion about this post