انٹرنیشنل کرکٹ کونسل کے ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ 2026 سے متعلق اہم تفصیلات منظرِ عام پر آ گئی ہیں، جن میں گروپس کی تشکیل اور پاک بھارت ٹاکرے کی تاریخ بھی شامل ہے۔ یہ معلومات شائقینِ کرکٹ کے جوش و خروش کو مزید بڑھا رہی ہیں۔ آئی سی سی باضابطہ طور پر ورلڈ کپ کا مکمل شیڈول 25 نومبر کو جاری کرے گی، تاہم میڈیا رپورٹس کے مطابق 20 ٹیموں کو چار گروپس میں تقسیم کیا گیا ہے، ہر گروپ میں پانچ ٹیمیں شامل ہوں گی۔ گروپ اسٹیج کے بعد ہر گروپ کی سرفہرست دو ٹیمیں سپر 8 مرحلے میں جگہ بنائیں گی۔ سب سے زیادہ زیرِ بحث گروپ پاکستان اور بھارت کا ہے، جنہیں ایک بار پھر ایک ہی گروپ میں رکھا گیا ہے۔ دونوں روایتی حریفوں کے درمیان سنسنی خیز مقابلہ 15 فروری کو کولمبو میں ہونے جا رہا ہے۔ اسی گروپ میں نیدرلینڈز، نمیبیا اور امریکا کی ٹیموں کا شامل ہونا بھی متوقع ہے۔ایونٹ کے مشترکہ میزبان سری لنکا کے گروپ میں آسٹریلیا، زمبابوے، آئر لینڈ اور عمان کے شامل ہونے کا امکان ہے۔

ایک اور ممکنہ گروپ میں انگلینڈ، ویسٹ انڈیز، بنگلادیش، نیپال اور اٹلی کی ٹیمیں جگہ پائیں گی، جبکہ جنوبی افریقہ، نیوزی لینڈ، افغانستان، یو اے ای اور کینیڈا کو بھی ایک ساتھ رکھنے کی تجویز سامنے آئی ہے۔ ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ 7 فروری سے 8 مارچ تک کھیلا جائے گا۔ بھارت میں میچز ممبئی، کولکتہ، چنائی، دہلی اور احمد آباد میں ہوں گے، جبکہ سری لنکا میں میچز کولمبو اور کینڈی کی میزبانی کریں گے۔ پاکستان اپنی تمام گروپ میچز سری لنکا میں ہی کھیلے گا۔ فائنل کے لیے احمد آباد کو مرکزی مقام کے طور پر منتخب کیا گیا ہے، تاہم اگر پاکستان فائنل میں پہنچتا ہے تو فیصلہ کن معرکہ کولمبو میں ہوگا۔ اسی طرح سیمی فائنلز ممبئی اور کولکتہ میں شیڈول کیے گئے ہیں، لیکن پاکستانی ٹیم کے سیمی فائنل تک پہنچنے کی صورت میں یہ میچ بھی سری لنکا منتقل کر دیا جائے گا۔ کرکٹ کے دیوانوں کے لیے یہ ایونٹ نہ صرف دلچسپ گروپنگ، بلکہ ہائی وولٹیج مقابلوں کے باعث بھی غیر معمولی اہمیت اختیار کر چکا ہے، خصوصاً وہ 15 فروری کی شام جب ایک بار پھر دنیا بھر کی نظریں پاک بھارت ٹاکرے پر مرکوز ہوں گی۔







Discussion about this post