فیصل آباد کے علاقے ملک پور میں پیر کی رات کیمیکل فیکٹری کا منظر اچانک قیامت خیز دھماکے میں بدل گیا۔ فیکٹری کے اندر موجود سلنڈرز پھٹنے سے زوردار دھماکا ہوا، جس کے فوراً بعد آگ نے پوری عمارت کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔ دھماکے کی شدت اتنی شدید تھی کہ آس پاس کے گھروں کی چھتیں بھی لرز کر گر پڑیں، اور لمحوں میں پورا علاقہ چیخ و پکار سے گونج اٹھا۔ ریسکیو حکام کے مطابق اب تک 12 سے 14 افراد کی موت کی تصدیق ہو چکی ہے، جبکہ متعدد افراد زخمی حالت میں اسپتال منتقل کیے گئے ہیں۔ ہلاک ہونے والوں میں چھ معصوم بچے، دو خواتین، دو بزرگ اور فیکٹری کا ایک ملازم شامل ہیں۔ المیے کو مزید دلخراش بنانے والی بات یہ ہے کہ فیکٹری سے ملحقہ ایک گھر کی چھت گرنے سے میاں بیوی اور ان کے دو بچے ملبے تلے دب کر جان سے گئے۔ ملبہ اتنا وسیع تھا کہ امدادی ٹیموں کو فیکٹری کے اندر رسائی میں شدید مشکلات پیش آئیں۔ ابتدائی لمحات میں علاقہ مکین اپنی مدد آپ کے تحت لاشیں اور زخمیوں کو نکالتے رہے، جبکہ ریسکیو سروسز نے پہنچ کر آگ پر قابو پانے اور ملبہ ہٹانے کا عمل شروع کیا۔
ریسکیو ذرائع کا کہنا ہے کہ اب تک ملبے کے نیچے سے کم ازکم 9 افراد کو نکال کر اسپتال منتقل کیا جا چکا ہے، تاہم حکام نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ مزید لوگ بھی ملبے تلے دبے ہو سکتے ہیں۔ اسی باعث سرچ آپریشن کو تیز کر دیا گیا ہے اور بھاری مشینری طلب کر لی گئی ہے۔ یہ واقعہ نہ صرف ایک صنعتی حادثہ ہے بلکہ حفاظتی اقدامات کی سنگین کمی کا ایک بھیانک ثبوت بھی ہے، جس نے ایک لمحے میں کئی گھروں کے چراغ گل کر دیے۔







Discussion about this post