امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اعلان کیا ہے کہ سعودی عرب کو اب امریکا کا اہم نان نیٹو اتحادی قرار دیا جا رہا ہے، ایک ایسا درجہ جو واشنگٹن اور ریاض کے عسکری تعلقات کو نئی بلندیوں تک لے جائے گا۔ وائٹ ہاؤس میں بلیک ٹائی عشائیے سے خطاب کرتے ہوئے ٹرمپ نے کہا کہ یہ قدم دونوں ممالک کے اس مضبوط اسٹریٹیجک رشتے کی علامت ہے جو برسوں سے قائم ہے۔ انہوں نے فخر سے بتایا کہ یہ خصوصی درجہ دنیا کے صرف انیس ممالک کو حاصل ہے، اور آج سعودی عرب بھی اس فہرست میں شامل ہو گیا ہے۔ پریس کے مطابق اس فہرست میں اسرائیل، اردن، کویت اور قطر جیسے ممالک پہلے ہی شامل ہیں۔ ٹرمپ نے کہا کہ اگرچہ اس حیثیت کا مطلب امریکی سلامتی کی ضمانت نہیں، لیکن یہ سعودی عرب کے لیے وسیع عسکری اور اقتصادی مراعات کا دروازہ کھول دیتا ہے۔ صدر ٹرمپ نے ایرانی جوہری تنصیبات پر جون میں کیے گئے امریکی حملے کا بھی حوالہ دیا اور کہا کہ ان کارروائیوں نے خطے میں سعودی عرب کی سلامتی کو مزید مضبوط کیا ہے۔ اسی دوران سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان نے عشائیے میں خطاب کرتے ہوئے ٹرمپ کا شکریہ ادا کیا اور کہا کہ امریکا اور سعودی عرب کی شراکت نو دہائیوں پر محیط ہے، مگر آج دونوں ممالک ایک ایسے دور میں داخل ہو رہے ہیں جہاں اقتصادی اور عسکری تعاون کی نئی راہیں کھل رہی ہیں۔ محمد بن سلمان نے وعدہ کیا کہ سعودی سرمایہ کاری امریکا میں ایک کھرب ڈالر تک بڑھائی جائے گی، جب کہ ٹرمپ کے گزشتہ دورۂ ریاض میں چھ سو ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کا اعلان پہلے ہی کیا جا چکا ہے۔

انہوں نے کہا کہ دونوں ممالک اہم معاہدوں پر دستخط کر رہے ہیں جو تعلقات کو مزید مضبوط اور مستقبل کی شراکت کو مستحکم کریں گے۔ وائٹ ہاؤس کی جانب سے جاری فیکٹ شیٹ میں بتایا گیا کہ امریکا اور سعودی عرب نے ایک تزویراتی دفاعی معاہدے پر دستخط کر دیے ہیں، جو مشرقِ وسطیٰ میں جارحیت کے خلاف روک تھام کو مضبوط کرے گا، امریکی دفاعی کمپنیوں کے لیے سعودی عرب میں کاروبار آسان بنائے گا اور مشترکہ مالی تعاون کو یقینی بنائے گا۔ اگرچہ یہ معاہدہ نیٹو طرز کے مکمل اتحاد کے برابر نہیں، مگر اس کا دائرہ کار خطے میں طاقت کے توازن پر واضح اثر ڈالے گا۔ ٹرمپ نے سعودی عرب کو ایف 35 لڑاکا طیاروں کی آئندہ فراہمی کی منظوری بھی دے دی ہے، جب کہ سعودی عرب تین سو امریکی ٹینک خریدنے پر رضا مند ہو گیا ہے۔ اگر سعودی عرب کے لیے 48 ایف 35 جیٹ طیاروں کی خریداری کا سودا مکمل ہوتا ہے تو یہ نہ صرف امریکی پالیسی میں بڑی تبدیلی ہو گی بلکہ خطے کے عسکری توازن پر بھی گہرا اثر ڈالے گی۔ اس وقت مشرقِ وسطیٰ میں یہ جدید ترین طیارے صرف اسرائیل کے پاس موجود ہیں۔ دونوں ممالک نے سول جوہری توانائی میں تعاون سے متعلق مذاکرات کی تکمیل پر بھی مشترکہ اعلامیہ جاری کیا، جو مستقبل میں ایک دیرپا جوہری شراکت داری کی بنیاد رکھے گا۔ سعودی عرب طویل عرصے سے امریکی جوہری ٹیکنالوجی تک رسائی کا خواہشمند ہے تاکہ وہ امارات اور ایران جیسے علاقائی حریفوں کے برابر کھڑا ہو سکے۔ تاہم اس حوالے سے پیش رفت سست رہی ہے کیونکہ سعودی عرب نے اب تک وہ امریکی شرط قبول نہیں کی جس کے تحت اسے یورینیم کی افزودگی اور استعمال شدہ ایندھن کی دوبارہ پروسیسنگ سے دستبردار ہونا ہوگا۔







Discussion about this post