امریکی محکمہ خارجہ نے اعلان کیا ہے کہ صدر ٹرمپ کے متعارف کردہ “ون بگ بیوٹی فل بل ایکٹ” کے تحت امریکی سیاحتی ویزا کی فیس میں دو سو پچاس ڈالر کا بھاری اضافہ کیا جا رہا ہے۔ اس نئے اضافے، جسے ویزا انٹیگریٹی فیس کا نام دیا گیا ہے، کے بعد امریکی ویزا کی مجموعی لاگت بڑھ کر چار سو پینتیس ڈالر تک پہنچ جائے گی۔تیجوانا میں تعینات امریکی قونصل جنرل کرسٹوفر ٹیل نے ایک انٹرویو میں بتایا کہ امریکی سیاحتی ویزا کی طلب غیر معمولی حد تک بڑھ چکی ہے۔ ان کے مطابق قونصلیٹ روزانہ ایک ہزار کے قریب درخواست گزاروں کی اپائنٹمنٹس پر کارروائی کر رہا ہے، جو کہ اس مانگ کی شدت کا واضح ثبوت ہے۔ کرسٹوفر ٹیل نے لوگوں کو خبردار کرتے ہوئے کہا کہ جن کا ویزا ختم ہو چکا ہے، وہ فوراً تجدید کی درخواست جمع کرا دیں، کیونکہ آئندہ سال امریکہ میں فٹ بال ورلڈ کپ کے باعث لاکھوں افراد لاس اینجلس اور دیگر شہروں کا رخ کریں گے، جس سے ویزا کی مانگ کئی گنا بڑھنے کا امکان ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایک سیاحتی ویزا کے حصول کے لیے اوسط انتظار سو دن سے بھی زیادہ ہو چکا ہے۔ اگرچہ قونصلیٹ ہنگامی سفر یا کاروباری ضروریات کے لیے خصوصی رعایت دے سکتا ہے، تاہم عام درخواست گزاروں کے لیے بہتر ہے کہ وہ تاخیر کیے بغیر درخواست جمع کرائیں۔ امریکی قونصلیٹ کے ترجمان نے بارڈر رپورٹ کو بتایا کہ نئی فیس کا نفاذ تاحال شروع نہیں ہوا، تاہم اس کے مستقبل قریب میں لاگو ہونے کی توقع ہے۔ یہ اضافی فیس زیادہ تر ان غیر ملکی شہریوں پر لاگو ہوگی جنہیں امریکہ میں داخلے کے لیے غیر امیگرنٹ ویزا درکار ہوتا ہے، جن میں کاروباری و سیاحتی ویزا، طالب علم ویزا اور بڑی تعداد میں عارضی ورک ویزا شامل ہیں۔







Discussion about this post