کراچی کے کلفٹن میں بلاول ہاؤس کے قریب سیف سٹی کیمروں کے ایک ڈسٹری بیوشن باکس کی پر اسرار چوری نے علاقے میں ہلچل مچا دی ہے۔ضلع جنوبی کے ڈپٹی انسپکٹر جنرل سید اسد رضا کے مطابق یہ پول سائٹ غیر فعال تھی اور سی راک اپارٹمنٹس کے قریب سی ویو میں واقع تھی، جہاں 6 نومبر کو اس ڈسٹری بیوشن باکس کی چوری کی رپورٹ موصول ہوئی۔ قریبی ہوٹل کے عملے نے بتایا کہ چوری سے چند گھنٹے قبل ایک گاڑی کرین کے ساتھ کھمبے پر کام کرتی ہوئی دیکھی گئی تھی، اور اس کے بعد کچھ سوئچز اور بیٹریاں بھی غائب ہو گئیں، جو اس واردات کی پیچیدگی کو مزید بڑھا رہی ہیں۔ پولیس نے علاقے کے سی سی ٹی وی کیمروں کی فوٹیج چیک کی، مگر کوئی ریکارڈ دستیاب نہیں تھا، اور اب تفتیش کار اس مشکوک گاڑی کا سراغ لگانے میں مصروف ہیں۔ ڈی آئی جی نے بتایا کہ اس پول سائٹ پر کوئی الارم سسٹم نصب نہیں تھا، جس کی وجہ سے یہ معلوم کرنا مشکل ہے کہ ڈسٹری بیوشن باکس کب اور کیسے ہٹایا گیا۔ انہوں نے مزید کہا کہ یہ ڈسٹری بیوشن باکس انتہائی اونچائی پر اور بھاری وزن کے ساتھ نصب تھا، اس لیے اسے کسی فرد کے لیے ہٹانا آسان نہیں تھا۔ کیمرے بھی فعال نہیں تھے، اور پورا علاقہ مکمل تاریکی میں ڈوبا ہوا تھا، نہ کوئی اسٹریٹ لائٹس تھیں اور نہ ہی قریبی کسی نجی ریستوران نے سی سی ٹی وی نصب کیا تھا۔ صرف ایک کیمرہ موجود تھا جو محدود پارکنگ ایریا کی نگرانی کر سکتا تھا۔

ڈی آئی جی نے یاد دلایا کہ ماضی میں کلفٹن کنٹونمنٹ بورڈ اور کے ایم سی کو سٹریٹ لائٹس لگانے کے لیے خطوط بھیجے گئے تھے، لیکن کوئی پیش رفت نہیں ہوئی۔ پولیس کے مطابق تحقیقات جاری ہیں اور تفتیش کار ہر زاویے سے اس پراسرار واردات کے راز کھوجنے میں مصروف ہیں، تاکہ یہ واضح ہو سکے کہ یہ ڈسٹری بیوشن باکس کس کے ہاتھوں اور کس طرح چوری ہوا۔یہ واقعہ نہ صرف علاقے میں سلامتی کے نظام پر سوالیہ نشان لگا دیتا ہے بلکہ شہریوں کے لیے بھی ایک سخت انتباہ ہے کہ جدید نگرانی کے باوجود، حفاظتی اقدامات میں چھوٹ بہت مہنگی پڑ سکتی ہے۔







Discussion about this post