امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بدھ کے روز ایک تاریخی قدم اٹھاتے ہوئے اس قانون پر دستخط کر دیے جس نے ملک کی تاریخ کے طویل ترین سرکاری شٹ ڈاؤن کا اختتام کر دیا۔ ایوانِ نمائندگان نے چند گھنٹے قبل ہی وہ بل منظور کیا تھا جس کے ذریعے لاکھوں وفاقی ملازمین کو تنخواہیں دی جائیں گی، فوڈ ایڈ پروگرام بحال ہوں گے اور ایئر ٹریفک کنٹرول کا نظام دوبارہ رواں دواں ہو جائے گا۔ رائٹرز کے مطابق ری پبلکن اکثریت والے ایوان نے یہ پیکیج 222 کے مقابلے میں 209 ووٹوں سے منظور کیا۔ ٹرمپ کی حمایت نے ان کی جماعت کو متحد رکھا، اگرچہ ڈیموکریٹس نے بھرپور مزاحمت جاری رکھی۔ ان کی ناراضی کی ایک بڑی وجہ یہ تھی کہ سینیٹ میں ان کے ساتھی وفاقی ہیلتھ انشورنس سبسڈی میں توسیع کے معاہدے پر اتفاق حاصل کرنے میں ناکام رہے۔ اس بل کی منظوری کے بعد 43 دن سے معطل وفاقی ادارے جمعرات سے دوبارہ کام شروع کریں گے۔ تاہم یہ اب بھی غیر واضح ہے کہ حکومت کی تمام خدمات کب مکمل طور پر بحال ہو پائیں گی۔ نئے قانون کے تحت 30 جنوری تک فنڈنگ جاری رہے گی، جس کا مطلب ہے کہ وفاقی حکومت اپنے 380 کھرب ڈالر کے قرض میں ہر سال تقریباً 18 کھرب ڈالر کا اضافہ کرتی رہے گی۔ ری پبلکن رکن ڈیوڈ شوئیکرٹ نے طنزاً کہا، ’’مجھے لگتا ہے جیسے ہم سیئن فیلڈ کے کسی بے مقصد ایپیسوڈ میں پھنس گئے ہوں۔ چالیس دن گزر گئے اور اب بھی کہانی سمجھ نہیں آئی۔‘‘ ان کا مزید کہنا تھا کہ، ’’میں نے سوچا تھا یہ دو دن کا معاملہ ہوگا، لوگ غصہ نکال لیں گے اور واپس کام پر آ جائیں گے، مگر اب تو لگتا ہے غصہ ہی پالیسی بن گیا ہے۔‘‘

یہ ووٹنگ ایسے وقت میں ہوئی جب ڈیموکریٹس حالیہ انتخابات میں چند کامیابیاں حاصل کر چکے تھے اور انہیں امید تھی کہ وہ ہیلتھ انشورنس سبسڈی میں توسیع کے لیے دباؤ بڑھا سکیں گے۔ اگرچہ سینیٹ میں اس پر دسمبر میں ووٹنگ متوقع ہے، مگر ایوانِ نمائندگان کے اسپیکر مائیک جانسن نے کوئی وعدہ نہیں کیا۔ نیوجرسی کی ڈیموکریٹ رکن میکی شیریل، جو اگلی گورنر منتخب ہو چکی ہیں، نے اپنے الوداعی خطاب میں اس بل کی مخالفت کرتے ہوئے کہا، ’’اس ایوان کو ایسی انتظامیہ کا محض مہرہ نہ بننے دیں جو عوام سے صحت اور بچوں سے کھانا چھینتی ہے۔‘‘ انہوں نے قوم سے اپیل کی، ’’ثابت قدم رہو، جیسے ہم بحریہ میں کہتے ہیں جہاز مت چھوڑو۔‘‘دونوں جماعتوں کی لفظی جنگ کے باوجود کسی ایک کو بھی سیاسی فائدہ نہیں ملا۔ رائٹرز اور اپسوس کے تازہ سروے کے مطابق 50 فیصد امریکیوں نے شٹ ڈاؤن کا ذمہ دار ری پبلکنز کو، جبکہ 47 فیصد نے ڈیموکریٹس کو ٹھہرایا۔ ایوانِ نمائندگان کی طویل تعطیلات کے بعد واپسی پر بحث صرف فنڈنگ تک محدود نہ رہی، بلکہ یہ سوال بھی اٹھ کھڑا ہوا کہ آیا جیفری ایپسٹین سے متعلق تمام غیر خفیہ ریکارڈز عوام کے سامنے لائے جائیں یا نہیں ایک ایسا معاملہ جس کی ٹرمپ اور اسپیکر جانسن دونوں مزاحمت کرتے رہے ہیں۔بدھ کو ایریزونا سے منتخب ہونے والی ایڈیلیٹا گریہالوا نے اپنے والد کی وفات کے بعد خالی نشست جیتنے کے بعد حلف اٹھایا۔ ان کے دستخط کے ساتھ ایوان میں ایپسٹین دستاویزات پر ووٹنگ کے لیے درخواست مکمل ہو گئی۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ اس سے چند گھنٹے قبل ہی ڈیموکریٹس نے ان دستاویزات کا ایک نیا بیچ جاری کیا تھا۔ یوں، حکومت کو فنڈنگ دینے کا آئینی فریضہ ادا کرنے کے بعد ایوان اب ایک بار پھر اسی حساس معاملے میں الجھنے جا رہا ہے جس نے 2019 میں ایپسٹین کی جیل میں موت کے بعد سازشی نظریات کو جنم دیا تھا۔فنڈنگ پیکیج کے مطابق آٹھ ری پبلکن سینیٹرز کو 6 جنوری 2021 کے کیپٹل حملے کی تحقیقات کے دوران ان کی پرائیویسی کی خلاف ورزیوں پر ہرجانے کا حق حاصل ہوگا۔ یہ قانون ماضی سے نافذالعمل ہوگا اور کسی سینیٹر کے فون ڈیٹا کو بغیر اطلاع حاصل کرنا غیر قانونی قرار دے گا۔ متاثرہ ارکان کو محکمہ انصاف سے پانچ لاکھ ڈالر تک کے ہرجانے، وکلا کی فیس اور دیگر اخراجات کا مطالبہ کرنے کی اجازت ہوگی۔ یوں امریکہ کا یہ شٹ ڈاؤن ایک ایسے انجام کو پہنچا جس میں نہ کوئی فاتح رہا، نہ واضح شکست خوردہ , بس ایک طویل سیاسی جنگ، جس نے واشنگٹن کی دیواروں پر تھکن اور بے یقینی کے سائے چھوڑ دیے۔







Discussion about this post