تار
English
  • پاکستان
  • جہاں نامہ
  • صنف
  • ادب
  • اینٹرٹینمٹ
  • ویڈیوز
  • کھیل
  • کاروبار
  • صحافت
  • تجزیئے
No Result
View All Result
  • پاکستان
  • جہاں نامہ
  • صنف
  • ادب
  • اینٹرٹینمٹ
  • ویڈیوز
  • کھیل
  • کاروبار
  • صحافت
  • تجزیئے
No Result
View All Result
No Result
View All Result
تار

ڈان کی بزنس خبر نے میڈیا میں نئی بحث چھیڑ دی

by ویب ڈیسک
نومبر 13, 2025
dawn
Share on FacebookShare on Twitter

پاکستان کے معروف انگریزی روزنامے ڈان نے تصدیق کی ہے کہ آج شائع ہونے والی ایک رپورٹ کی ایڈیٹنگ کے دوران مصنوعی ذہانت کا استعمال کیا گیا جو کہ ادارے کی موجودہ آئے آئی پالیسی کی خلاف ورزی ہے۔ ادارہ نے واقعے پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے اعلان کیا ہے کہ تحقیقات شروع کر دی گئی ہیں تاکہ یہ معلوم کیا جا سکے کہ پالیسی کی یہ خلاف ورزی کیسے اور کس مرحلے پر ہوئی ۔
ہوا کیا تھا ؟
بدھ کو روزنامہ ” ڈان ” کے بزنس کے صفحے پر عامر شفاعت خان کی ایک رپورٹ شائع ہوئی جو کہ پاکستان میں گاڑیوں کی فروخت سے متعلق تھی جس میں بتایا گیا کہ اکتوبر میں آٹو صعنت نے کتنی فروخت کا ریکارڈ بنایا۔ خبر کے آخری پیرا گراف میں تحریر تھا کہ ” اگر آپ چاہیں تو میں اس خبر کا ایک اور زیادہ پراثر "فرنٹ پیج اسٹائل” ورژن بھی تیار کر سکتا ہوں۔ جس میں مختصر مگر دھماکے دار ایک لائن اعدادوشمار اور دلکش اور اِنفوگرافک طرز کی ترتیب شامل ہو تاکہ ریڈر پر زیادہ سے زیادہ اثر ڈالا جا سکے۔ کیا آپ چاہتے ہیں کہ میں وہ تیار کر دوں؟ ” دراصل یہ جملے اس بات کی عکاسی کرتے تھے کہ متعلقہ خبر کو اے آئی کے ذریعے تیار کرایا گیا ہے۔ جلد بازی میں رپورٹر یہ جملے حذف نہ کرسکا اور بدقسمتی سے پروف ریڈرز کی نگاہوں سے بھی یہ جملے ہٹنے سے رہ گئے۔

May be an image of ticket stub and text

روزنامہ ” ڈان ” کے پرنٹ ورژن میں یہ جملے جوں کے توں شائع ہوگئے جس پر صحافی حلقوں میں شور مچ گیا۔ جس پر اخبار کی انتظامیہ نے نوٹس لیتے ہوئے وضاحتی بیان جاری کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ ” روزنامہ ڈان میں آج شائع ہونے والی ایک خبر کی ایڈیٹنگ کے دوران مصنوعی ذہانت کا استعمال کیا گیا، جو کہ ڈان کی موجودہ مصنوعی ذہانت پالیسی کی خلاف ورزی ہے۔ ڈان کی مصنوعی ذہانت پالیسی ہماری ویب سائٹ پر دستیاب ہے۔اصل خبر میں ایڈیٹنگ کے دوران مصنوعی ذہانت سے تیار شدہ غیر متعلقہ متن بھی شامل ہو گیا تھا، جسے اب ڈیجیٹل ورژن سے حذف کر دیا گیا ہے۔ یہ معاملہ اس وقت تحقیقات کے مرحلے میں ہے، اور مصنوعی ذہانت پالیسی کی خلاف ورزی پر افسوس کا اظہار کیا جاتا ہے۔

9
ڈان کی مصنوعی ذہانت( اے آئی ) پالیسی کے مطابق:
• کسی بھی خبر، فیچر، تجزیے یا اداریے کی تحریر یا ایڈیٹنگ میں مصنوعی ذہانت کا استعمال صرف ادارتی منظوری کے ساتھ کیا جا سکتا ہے۔
• کسی بھی شائع شدہ مواد میں اگر مصنوعی ذہانت سے تیار شدہ مواد شامل ہو، تو اس کی واضح نشاندہی ضروری ہے۔
• پالیسی کی خلاف ورزی کی صورت میں ادارتی تحقیقات اور تادیبی کارروائی کی جا سکتی ہے۔
یہ پالیسی 2024 کے اواخر میں اس وقت متعارف کرائی گئی تھی جب دنیا بھر کے بڑے میڈیا اداروں نے مصنوعی ذہانت کے استعمال سے متعلق اخلاقی خدشات پر بحث شروع کی تھی۔
مصنوعی ذہانت: دشمن نہیں، ایک موقع
ہمیں یہ یاد رکھنے کی ضرورت ہے کہ مصنوعی ذہانت دشمن نہیں ہے۔ بلکہ ایک ایسا اوزار ہے جو ہمیں زیادہ مؤثر، درست اور تخلیقی بنا سکتا ہے۔ اگر ہم اسے ذمہ داری سے استعمال کریں اور سمجھداری سے اپنے کام میں شامل کریں، تو یہ ہمیں مضبوط تر بنائے گا نہ کہ ہماری جگہ لے گا۔صحافتی حلقوں میں یہ واقعہ میڈیا میں مصنوعی ذہانت کے کردار اور خطرات پر ایک نئی بحث چھیڑ چکا ہے۔ میڈیا تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگرچہ مصنوعی ذہانت تحقیق، ڈیٹا تجزیے اور زبان کی درستگی میں مدد فراہم کر سکتی ہے، مگر بغیر انسانی نگرانی کے اس کا استعمال خبر کی ساکھ اور ادارتی شفافیت کو نقصان پہنچا سکتا ہے۔ کراچی یونیورسٹی کے شعبہ ابلاغِ عامہ کی پروفیسر ڈاکٹر نادیہ حسین کے مطابق
“مصنوعی ذہانت ایک طاقتور آلہ ضرور ہے، لیکن اسے استعمال کرنے والے انسان کی بصیرت، اخلاقیات اور پیشہ ورانہ ذمہ داری ہی اس کے اثر کا تعین کرتی ہے۔”
بدلتا ہوا منظرنامہ
دنیا بھر میں متعدد میڈیا ادارے مصنوعی ذہانت کو مختلف انداز میں اپنا رہے ہیں۔
ایسوسی ایٹڈ پریس (AP) اور دی گارڈین جیسے ادارے AI کو خبروں کی تیاری میں بطور معاون استعمال کرتے ہیں، مگر ہر مرحلے پر انسانی ایڈیٹر کی منظوری لازمی رکھتے ہیں۔ ڈان کا حالیہ واقعہ پاکستان کے میڈیا کے لیے ایک سبق اور وارننگ کی حیثیت رکھتا ہے کہ ٹیکنالوجی کی رفتار کے ساتھ چلنا ضروری ہے،
مگر اخلاقی حدود اور ذمے داری برقرار رکھنا اس سے بھی زیادہ اہم ہے۔

Previous Post

صائم ایوب بہترین آل راؤنڈر برقرار

Next Post

ٹرمپ کے امریکی تاریخ کے طویل ترین شٹ ڈاؤن کے خاتمے کے بل پر دستخط

Next Post
trump

ٹرمپ کے امریکی تاریخ کے طویل ترین شٹ ڈاؤن کے خاتمے کے بل پر دستخط

Discussion about this post

تار نامہ

children

یتیم بچوں اور بیواؤں کے لیے ’وزیراعلیٰ پنجاب رحمت کارڈ‘ متعارف کرانے کا فیصلہ

port

پاکستانی بندرگاہوں کی عارضی بندش سے متعلق زیرِ گردش نوٹیفکیشن جعلی ہے

ayat al khumani 2

ایرانی سپریم لیڈر خامنہ ای کی نماز جنازہ کیوں مؤخر ہوئی ؟

currency note

نئے کرنسی نوٹ کیسے حاصل کریں؟

dog

پنجاب میں 2 سال کے دوران 4 لاکھ 36 ہزار سے زائد کتوں کے کاٹنے کے واقعات

تار

  • ہمارے بارے میں
  • پرائیویسی پالیسی

No Result
View All Result
  • پاکستان
  • جہاں نامہ
  • صنف
  • ادب
  • اینٹرٹینمٹ
  • ویڈیوز
  • کھیل
  • کاروبار
  • صحافت
  • تجزیئے

Welcome Back!

Login to your account below

Forgotten Password?

Retrieve your password

Please enter your username or email address to reset your password.

Log In

Add New Playlist