پاکستان کے معروف انگریزی روزنامے ڈان نے تصدیق کی ہے کہ آج شائع ہونے والی ایک رپورٹ کی ایڈیٹنگ کے دوران مصنوعی ذہانت کا استعمال کیا گیا جو کہ ادارے کی موجودہ آئے آئی پالیسی کی خلاف ورزی ہے۔ ادارہ نے واقعے پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے اعلان کیا ہے کہ تحقیقات شروع کر دی گئی ہیں تاکہ یہ معلوم کیا جا سکے کہ پالیسی کی یہ خلاف ورزی کیسے اور کس مرحلے پر ہوئی ۔
ہوا کیا تھا ؟
بدھ کو روزنامہ ” ڈان ” کے بزنس کے صفحے پر عامر شفاعت خان کی ایک رپورٹ شائع ہوئی جو کہ پاکستان میں گاڑیوں کی فروخت سے متعلق تھی جس میں بتایا گیا کہ اکتوبر میں آٹو صعنت نے کتنی فروخت کا ریکارڈ بنایا۔ خبر کے آخری پیرا گراف میں تحریر تھا کہ ” اگر آپ چاہیں تو میں اس خبر کا ایک اور زیادہ پراثر "فرنٹ پیج اسٹائل” ورژن بھی تیار کر سکتا ہوں۔ جس میں مختصر مگر دھماکے دار ایک لائن اعدادوشمار اور دلکش اور اِنفوگرافک طرز کی ترتیب شامل ہو تاکہ ریڈر پر زیادہ سے زیادہ اثر ڈالا جا سکے۔ کیا آپ چاہتے ہیں کہ میں وہ تیار کر دوں؟ ” دراصل یہ جملے اس بات کی عکاسی کرتے تھے کہ متعلقہ خبر کو اے آئی کے ذریعے تیار کرایا گیا ہے۔ جلد بازی میں رپورٹر یہ جملے حذف نہ کرسکا اور بدقسمتی سے پروف ریڈرز کی نگاہوں سے بھی یہ جملے ہٹنے سے رہ گئے۔

روزنامہ ” ڈان ” کے پرنٹ ورژن میں یہ جملے جوں کے توں شائع ہوگئے جس پر صحافی حلقوں میں شور مچ گیا۔ جس پر اخبار کی انتظامیہ نے نوٹس لیتے ہوئے وضاحتی بیان جاری کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ ” روزنامہ ڈان میں آج شائع ہونے والی ایک خبر کی ایڈیٹنگ کے دوران مصنوعی ذہانت کا استعمال کیا گیا، جو کہ ڈان کی موجودہ مصنوعی ذہانت پالیسی کی خلاف ورزی ہے۔ ڈان کی مصنوعی ذہانت پالیسی ہماری ویب سائٹ پر دستیاب ہے۔اصل خبر میں ایڈیٹنگ کے دوران مصنوعی ذہانت سے تیار شدہ غیر متعلقہ متن بھی شامل ہو گیا تھا، جسے اب ڈیجیٹل ورژن سے حذف کر دیا گیا ہے۔ یہ معاملہ اس وقت تحقیقات کے مرحلے میں ہے، اور مصنوعی ذہانت پالیسی کی خلاف ورزی پر افسوس کا اظہار کیا جاتا ہے۔

ڈان کی مصنوعی ذہانت( اے آئی ) پالیسی کے مطابق:
• کسی بھی خبر، فیچر، تجزیے یا اداریے کی تحریر یا ایڈیٹنگ میں مصنوعی ذہانت کا استعمال صرف ادارتی منظوری کے ساتھ کیا جا سکتا ہے۔
• کسی بھی شائع شدہ مواد میں اگر مصنوعی ذہانت سے تیار شدہ مواد شامل ہو، تو اس کی واضح نشاندہی ضروری ہے۔
• پالیسی کی خلاف ورزی کی صورت میں ادارتی تحقیقات اور تادیبی کارروائی کی جا سکتی ہے۔
یہ پالیسی 2024 کے اواخر میں اس وقت متعارف کرائی گئی تھی جب دنیا بھر کے بڑے میڈیا اداروں نے مصنوعی ذہانت کے استعمال سے متعلق اخلاقی خدشات پر بحث شروع کی تھی۔
مصنوعی ذہانت: دشمن نہیں، ایک موقع
ہمیں یہ یاد رکھنے کی ضرورت ہے کہ مصنوعی ذہانت دشمن نہیں ہے۔ بلکہ ایک ایسا اوزار ہے جو ہمیں زیادہ مؤثر، درست اور تخلیقی بنا سکتا ہے۔ اگر ہم اسے ذمہ داری سے استعمال کریں اور سمجھداری سے اپنے کام میں شامل کریں، تو یہ ہمیں مضبوط تر بنائے گا نہ کہ ہماری جگہ لے گا۔صحافتی حلقوں میں یہ واقعہ میڈیا میں مصنوعی ذہانت کے کردار اور خطرات پر ایک نئی بحث چھیڑ چکا ہے۔ میڈیا تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگرچہ مصنوعی ذہانت تحقیق، ڈیٹا تجزیے اور زبان کی درستگی میں مدد فراہم کر سکتی ہے، مگر بغیر انسانی نگرانی کے اس کا استعمال خبر کی ساکھ اور ادارتی شفافیت کو نقصان پہنچا سکتا ہے۔ کراچی یونیورسٹی کے شعبہ ابلاغِ عامہ کی پروفیسر ڈاکٹر نادیہ حسین کے مطابق
“مصنوعی ذہانت ایک طاقتور آلہ ضرور ہے، لیکن اسے استعمال کرنے والے انسان کی بصیرت، اخلاقیات اور پیشہ ورانہ ذمہ داری ہی اس کے اثر کا تعین کرتی ہے۔”
بدلتا ہوا منظرنامہ
دنیا بھر میں متعدد میڈیا ادارے مصنوعی ذہانت کو مختلف انداز میں اپنا رہے ہیں۔
ایسوسی ایٹڈ پریس (AP) اور دی گارڈین جیسے ادارے AI کو خبروں کی تیاری میں بطور معاون استعمال کرتے ہیں، مگر ہر مرحلے پر انسانی ایڈیٹر کی منظوری لازمی رکھتے ہیں۔ ڈان کا حالیہ واقعہ پاکستان کے میڈیا کے لیے ایک سبق اور وارننگ کی حیثیت رکھتا ہے کہ ٹیکنالوجی کی رفتار کے ساتھ چلنا ضروری ہے،
مگر اخلاقی حدود اور ذمے داری برقرار رکھنا اس سے بھی زیادہ اہم ہے۔







Discussion about this post