وزیراعظم شہباز شریف نے وفاقی کابینہ کا ہنگامی اجلاس طلب کر لیا ہے، ملک کی بگڑتی ہوئی سیکیورٹی صورتحال اور بڑھتی ہوئی کشیدگی کے پس منظر میں یہ اجلاس غیر معمولی اہمیت اختیار کر گیا ہے۔ ذرائع کے مطابق اجلاس کسی بھی وقت بلایا جا سکتا ہے، جس میں قومی سلامتی سے متعلق اہم فیصلے متوقع ہیں۔اسلام آباد میں گزشتہ روز ہونے والے خودکش حملے کے بعد ملک کی فضا سوگوار ہے، اور حکومت کے اعلیٰ حلقوں میں سیکیورٹی اداروں کی کارکردگی اور داخلی سلامتی کے امور پر سنجیدہ غور و فکر جاری ہے۔ذرائع کا کہنا ہے کہ اجلاس میں 27ویں آئینی ترمیم میں مزید تبدیلیوں پر بھی مشاورت ہوگی۔ یہ وہ ترمیم ہے جس پر حکومت اور اپوزیشن دونوں کی جانب سے سخت مؤقف سامنے آ چکا ہے۔ اطلاعات کے مطابق حکومت نے ترمیم میں اضافی نکات شامل کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے، جو آج وفاقی کابینہ سے منظور کیے جائیں گے۔ منظوری کے بعد بل دوبارہ سینیٹ میں پیش کیا جائے گا۔دوسری جانب اپوزیشن نے بھی خاموشی توڑ دی ہے اور 11 ترامیم پیش کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اپوزیشن کا کہنا ہے کہ وہ عدالتی ڈھانچے میں تبدیلی اور استثنیٰ کے حوالے سے حکومتی اقدامات کو کسی صورت قبول نہیں کرے گی۔

یہ اجلاس اس وقت بلایا گیا ہے جب ملک میں دہشتگردی کی نئی لہر نے سر اٹھایا ہے۔ حالیہ ہفتوں میں افغانستان سے منسلک گروہوں کی جانب سے پاکستان کے مختلف حصوں میں حملوں میں تیزی آئی ہے۔ اسلام آباد دھماکے کے بعد سرحدوں پر بھی تناؤ بڑھ گیا ہے۔ باخبر ذرائع کے مطابق اجلاس میں پاک-افغان تعلقات، دوحہ اور استنبول میں ہونے والے مذاکرات، اور طالبان کے ساتھ حالیہ بات چیت کے ناکام ہونے کی وجوہات پر بھی بریفنگ دی جائے گی۔حکومت کے قریبی ذرائع کا کہنا ہے کہ وزیراعظم نے کابینہ اراکین کو فوری طور پر دستیاب رہنے کی ہدایت دی ہے، تاکہ کسی بھی ہنگامی فیصلے کو فوراً عمل میں لایا جا سکے۔سیاسی تجزیہ نگاروں کے مطابق آج کا اجلاس محض ایک رسمی کارروائی نہیں، بلکہ آنے والے دنوں کی سیاسی اور آئینی سمت کا تعین کر سکتا ہے۔ سیکیورٹی بحران، آئینی تنازعات اور اپوزیشن کے دباؤ کے درمیان حکومت کے لیے یہ ایک نازک موڑ ہے، جس میں ایک غلط فیصلہ حالات کو مزید سنگین بنا سکتا ہے۔







Discussion about this post