امریکی کیپیٹل میں شٹ ڈاؤن کے خاتمے کی جانب ایک اہم پیش رفت ہوئی ہے، جب چند ڈیموکریٹک سینیٹرز نے ریپبلکنز کے ساتھ مل کر وفاقی حکومت کی فنڈنگ کے بل کی منظوری دی، جس سے طویل عرصے سے جاری بندش ختم ہونے کے امکانات روشن ہو گئے ہیں۔ سی این این کے مطابق، 8 ڈیموکریٹک ارکان نے اس شرط کے بغیر ریپبلکنز کی حمایت کی کہ افورڈیبل کیئر ایکٹ (اے سی سی) کی سبسڈیز میں توسیع کی ضمانت دی جائے۔ اس فنڈنگ معاہدے کی منظوری سینیٹ میں 60 کے مقابلے میں 40 ووٹ سے ہوئی، جب کہ ریپبلکن سینیٹر رینڈ پال نے مخالفت میں ووٹ دیا۔ اب یہ بل ہاؤس میں جائے گا، جہاں جی او پی کے رہنما توقع کر رہے ہیں کہ بدھ تک یہ منظور ہو جائے گا اور سب سے طویل امریکی شٹ ڈاؤن ختم کر سکے گا۔ معاہدے کی منظوری کے بعد صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے دستخط متوقع ہیں، جو وفاقی فوڈ ایڈ، خواتین و بچوں کے غذائیتی پروگرام، ویٹرنز پروگرام اور لاکھوں وفاقی ملازمین کی تنخواہوں کو بحال کرے گا۔

اس معاہدے پر سینٹرلسٹ ڈیموکریٹس نے زور دیا کہ مستقبل میں کسی صحت کی دیکھ بھال کے بل پر ووٹ لینے کی ضمانت دی جائے، تاہم پارٹی کی بائیں بازو کی جانب سے غصہ بھی دیکھا گیا، کیونکہ اے سی سی سبسڈیز کی توسیع کے حوالے سے کوئی حقیقی پیش رفت نہیں ہوئی۔ ان 8 ڈیموکریٹک سینیٹرز میں ڈک ڈربن، میگی ہیسن، ٹم کین، جین شاہین، کیتھرین کورٹز ماسٹو، جان فیٹر مین، جیکی روزن اور آزاد رکن اینگس کنگ شامل ہیں، جنہوں نے پارٹی کی مخالفت کے باوجود وفاقی حکومت کو دوبارہ کھولنے کے لیے اہم قدم اٹھایا۔ اب توجہ ہاؤس اسپیکر مائیک جانسن اور ایوان کے ارکان پر ہے، جو وسط ستمبر کے بعد واشنگٹن واپس آ رہے ہیں، اور توقع کی جا رہی ہے کہ بدھ کو دوپہر 4 بجے سینیٹ سے منظور شدہ بل پر ووٹ دیا جائے گا۔صدر ٹرمپ نے بھی سی این این کو یقین دلایا کہ وہ اس بل کی منظوری کے لیے تیار ہیں اور یہ اقدام امریکہ کو جلد دوبارہ کھولنے میں مددگار ثابت ہوگا۔ اس پیش رفت کے بعد نہ صرف شٹ ڈاؤن ختم ہونے کے امکانات بڑھ گئے ہیں، بلکہ لاکھوں امریکی شہریوں کو اہم سرکاری خدمات کی بحالی اور مالی استحکام بھی میسر آئے گا۔







Discussion about this post