سپریم کورٹ میں آئینی اور عدالتی معاملات پر ایک ہنگامہ خیز خط منظر عام پر آیا ہے، جس میں سینیئر جج جسٹس اطہر من نے اپنی شدید تشویش کا اظہار کیا ہے۔ جسٹس اطہر نے 8 اکتوبر کو لکھے گئے خط میں کہا کہ سپریم کورٹ اکثر طاقتور افراد کے ساتھ کھڑی رہی ہے، عوام کے ساتھ نہیں، اور ذوالفقار علی بھٹو کی عدالتی پھانسی عدلیہ کا ناقابل معافی جرم ہے۔ خط میں جج نے مزید لکھا کہ بے نظیر بھٹو، نواز شریف اور مریم نواز کے خلاف کارروائیاں اسی ایک تسلسل کی کڑیاں ہیں، اور بانی پی ٹی آئی کے ساتھ ہونے والا سلوک بھی اسی جبر کا حصہ ہے۔ اسلام آباد ہائی کورٹ پر عوامی اعتماد حاصل کرنے کے بعد ہونے والے دباؤ، بہادر ججز کے خط اور سپریم کورٹ کے ضمیر پر پڑنے والے بوجھ کا ذکر بھی اسی تناظر میں کیا گیا ہے۔ جسٹس اطہر من نے واضح کیا کہ بیرونی مداخلت اب کوئی راز نہیں بلکہ ایک کھلی حقیقت ہے، اور جو جج سچ بولتا ہے وہ انتقام کا نشانہ بنتا ہے، جبکہ جو جج نہیں جھکتا اس کے خلاف احتساب کے ہتھیار استعمال کیے جاتے ہیں۔

انہوں نے اعتراف کیا کہ سچائی معلوم ہے مگر زیادہ تر سرگوشیوں تک محدود رہتی ہے۔اسی دوران سپریم کورٹ کے 38 سابق لاء کلرکس نے چیف جسٹس یحییٰ آفریدی کو خط لکھ کر فل کورٹ میٹنگ بلانے کا مطالبہ کیا ہے۔ ان کے خط میں کہا گیا کہ آج عدلیہ کو 2007 کے مقابلے میں زیادہ خطرات لاحق ہیں اور چیف جسٹس کا ردعمل یہ طے کرے گا کہ وہ تاریخ میں سپریم کورٹ کا دفاع کرنے والے کے طور پر یاد رکھے جائیں گے یا اسے دفن کرنے والے کے طور پر۔یہ خطوط عدلیہ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی اور آئینی اداروں کے تحفظ کے حوالے سے ایک تاریخی لمحے کی عکاسی کرتے ہیں، جہاں عدالت کے اندر اور باہر دونوں جانب سے اہم سوالات اٹھائے جا رہے ہیں کہ عدلیہ کس کے ساتھ ہے اور عوامی اعتماد کے تحفظ کے لیے کس حد تک مضبوطی دکھائے گی۔







Discussion about this post