اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب عاصم افتخار احمد نے عالمی برادری کو ایک واضح اور پُرزور پیغام دیا ہے کہ افغانستان میں جدید اسلحے کی غیر قانونی ترسیل نہ صرف اُس ملک کے لیے بلکہ پورے خطے کے امن کے لیے ایک دہکتا ہوا خطرہ بن چکی ہے۔ انہوں نے دنیا سے مطالبہ کیا کہ وہ اس سنگین مسئلے کے تدارک کے لیے فوری اور مؤثر اقدامات کرے، ورنہ نتائج تباہ کن ہو سکتے ہیں۔ عاصم افتخار احمد نے اپنے خطاب میں کہا کہ افغانستان میں سرگرم دہشت گرد تنظیمیں کھلے عام اپنے نیٹ ورک کو وسعت دے رہی ہیں، اور ان کے ہاتھوں میں موجود جدید اسلحہ پورے خطے کے لیے عدم استحکام کی علامت بنتا جا رہا ہے۔ ان کے مطابق، یہ گروہ نہ صرف افغان عوام بلکہ پاکستانی شہریوں اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے خلاف بھی خطرناک کارروائیوں میں ملوث ہیں، جن کے نتیجے میں بے شمار معصوم جانیں ضائع ہو چکی ہیں۔انہوں نے اس بات پر گہری تشویش ظاہر کی کہ افغانستان میں موجود جدید ہتھیاروں اور گولہ بارود کے ذخائر دہشت گردوں کے لیے ایک منظم سہولت بن چکے ہیں، جن کی موجودگی علاقائی امن و سلامتی پر سوالیہ نشان ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ان گروہوں کو بعض عالمی عناصر سے مالی اور عملی حمایت حاصل ہے، جو ان کی تباہ کن سرگرمیوں کو تقویت دیتی ہے۔ پاکستانی مندوب نے عالمی برادری پر زور دیا کہ وہ فوری طور پر ایسا نظام تشکیل دے جو افغانستان میں دہشت گرد گروپوں کو غیر قانونی اسلحے تک رسائی سے روکے، اور اسلحے کی نقل و حرکت پر جدید ٹیکنالوجی کی مدد سے مؤثر نگرانی کی جا سکے۔ انہوں نے افغانستان کے عبوری حکام سے بھی مطالبہ کیا کہ وہ اپنے وعدوں اور بین الاقوامی ذمہ داریوں کو پورا کریں تاکہ ملک میں امن، استحکام اور قانون کی حکمرانی بحال ہو سکے۔ عاصم افتخار احمد نے انتباہ کیا کہ اگر عالمی برادری نے اس معاملے پر غفلت برتی تو دہشت گردی کا یہ زہر سرحدوں سے پار پھیل جائے گا، اور پورا خطہ ایک نئے عدم استحکام کی لپیٹ میں آ سکتا ہے۔ ان کا دوٹوک پیغام تھا کہ دنیا کو اب مزید تاخیر کے بجائے متحد ہو کر اس خطرے کا مقابلہ کرنا ہوگا، کیونکہ علاقائی امن اور عالمی سلامتی کے تحفظ کے لیے یہی واحد راستہ ہے۔







Discussion about this post