اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی میں پاکستان نے بھارت کے من گھڑت دعوؤں کو مؤثر انداز میں مسترد کرتے ہوئے واضح کر دیا کہ “مقبوضہ جموں و کشمیر نہ بھارت کا حصہ تھا، نہ ہے، اور نہ کبھی ہوگا”۔
Right of Reply by First Secretary Sarfaraz Ahmed Gohar
In Response to Remarks of the Indian Delegate
During the General Debate on Presentation of the Report of Human Rights Council
(31 October 2025)
*****Mr. President,
I am using this right of reply to respond to the India’s… pic.twitter.com/XPO0ZJ6w6q
— Permanent Mission of Pakistan to the UN (@PakistanUN_NY) October 31, 2025
پاکستان کے فرسٹ سیکریٹری سرفراز احمد گوہر نے بھارتی سفارت کار کے بیانات کا حقِ جواب (Right of Reply) استعمال کرتے ہوئے دوٹوک مؤقف پیش کیا۔ انہوں نے کہا کہ کشمیر ایک بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ تنازعہ ہے، جس کا حتمی فیصلہ اقوامِ متحدہ کی نگرانی میں آزاد اور منصفانہ رائے شماری کے ذریعے ہونا چاہیے، جیسا کہ سلامتی کونسل کی قراردادیں واضح طور پر کہتی ہیں۔ سرفراز گوہر نے عالمی برادری کو یاد دلایا کہ اقوامِ متحدہ کے تمام سرکاری نقشے بھی جموں و کشمیر کو متنازع علاقہ ظاہر کرتے ہیں۔ انہوں نے بھارت کو اقوامِ متحدہ کے چارٹر کے آرٹیکل 25 کی روشنی میں اپنی ذمہ داریاں نبھانے اور کشمیری عوام کو ان کا حقِ خودارادیت دینے کا مطالبہ کیا۔ پاکستانی مندوب نے بھارت کے اندر بڑھتی ہوئی انتہا پسندی اور ہندوتوا ایجنڈے پر بھی شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ آج کا بھارت ایک عدم برداشت اور مذہبی تعصب کا گڑھ بن چکا ہے۔ انہوں نے کہا کہ انتہا پسند ہندو تنظیمیں مسلمانوں کی نسل کشی کے کھلے عام مطالبات کر رہی ہیں، اور جینو سائیڈ واچ (Genocide Watch) پہلے ہی اس بابت خطرے کی گھنٹی بجا چکی ہے۔
آخر میں، سرفراز گوہر نے جنرل اسمبلی کے صدر سے مخاطب ہو کر کہا کہ عالمی برادری بھارت پر دباؤ ڈالے تاکہ وہ مقبوضہ کشمیر کے عوام کے بنیادی انسانی حقوق کا احترام کرے اور اپنے توہین آمیز بیانیے سے توجہ ہٹانے کے حربے ترک کرے۔
یا، اور اسے پورا کرنا اقوامِ متحدہ کی اخلاقی و قانونی ذمہ داری ہے۔”







Discussion about this post