چین نے اعلان کیا ہے کہ وہ پاکستانی خلا بازوں کو اپنے خلائی اسٹیشن کے اگلے مشن میں شامل کرے گا، جہاں وہ چینی خلا بازوں کے ساتھ تربیت حاصل کریں گے اور سائنسی تجربات بھی انجام دیں گے۔
Two Pakistani astronauts will undergo training alongside Chinese astronauts, and one of them will be selected to participate in a short-duration spaceflight mission as a payload specialist, the China Manned Space Agency announced at a press conference on Thursday pic.twitter.com/dVSp6TlbHz
— China Xinhua News (@XHNews) October 30, 2025
چینی سرکاری خبر ایجنسی ’شِنہوا‘ کے مطابق، چین کے انسان بردار خلائی پروگرام کی ایجنسی (CMSA) نے بتایا کہ پاکستان کے خلا باز چینی خلا بازوں کے ساتھ مختصر مدت کے مشن میں حصہ لیں گے۔ چینی اخبار ’گلوبل ٹائمز‘ کے مطابق، پاکستانی خلا باز اس دوران روزمرہ کے خلائی کاموں میں شریک ہوں گے اور پاکستان کی جانب سے سائنسی تجربات بھی کریں گے۔
China is currently selecting astronauts from Pakistan, with one expected to take part in a short-duration space mission at an appropriate time, according to the China Manned Space Agency (CMSA) on Thursday. pic.twitter.com/hRwor7C14Y
— Global Times (@globaltimesnews) October 30, 2025
مارچ میں پاکستان کی خلائی ایجنسی سپارکو اور چین کی CMSA کے درمیان ایک معاہدہ ہوا تھا، جس کے تحت پاکستان کے پہلے انسان بردار مشن کو چین کے خلائی اسٹیشن پر بھیجنے کا فیصلہ کیا گیا تھا۔ وزیراعظم شہباز شریف نے اس معاہدے کو چین کی جانب سے ایک “قابلِ قدر قدم” قرار دیتے ہوئے کہا تھا کہ یہ خلا کے میدان میں دونوں ممالک کے اشتراک کو مزید مضبوط کرے گا۔ اپریل میں وزیراعظم نے چین کے ساتھ خلائی ٹیکنالوجی کے شعبے میں مزید تعاون بڑھانے کی خواہش کا اظہار بھی کیا تھا۔ انہوں نے کہا تھا کہ پاکستان خلا کی تحقیق کو “انتہائی اہمیت” دیتا ہے اور چین کو اپنا “قابلِ اعتماد تزویراتی شراکت دار” سمجھتا ہے۔
Chinese astronauts Zhang Lu, Wu Fei and Zhang Hongzhang will carry out the Shenzhou-21 crewed spaceflight mission, and Zhang Lu will be the commander, the China Manned Space Agency announced at a press conference https://t.co/T8DiO1h8A9 pic.twitter.com/39eIHwvJEm
— China Xinhua News (@XHNews) October 30, 2025
چند روز قبل، پاکستان نے چین کے ایک لانچ سینٹر سے اپنا پہلا ہائپر اسپیکٹرل سیٹلائٹ (HS-1) خلا میں بھیجا تھا، جسے دفترِ خارجہ نے پاکستان کے خلائی پروگرام کا “اہم سنگِ میل” قرار دیا۔ یہ سیٹلائٹ جدید ہائپر اسپیکٹرل امیجنگ ٹیکنالوجی سے لیس ہے، جو عام کیمروں کے مقابلے میں سینکڑوں باریک رنگی لہروں کو ریکارڈ کر سکتی ہے۔ اس ٹیکنالوجی سے زمین، ماحول اور قدرتی وسائل کے مطالعے میں مدد ملے گی۔ چین اور پاکستان کے درمیان خلا کے شعبے میں بڑھتا ہوا تعاون دونوں ممالک کی تزویراتی شراکت داری کو ایک نئے دور میں داخل کر رہا ہے۔







Discussion about this post