اقتصادی تعاون تنظیم (ای سی او) کے وزرائے داخلہ اجلاس کے موقع پر وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی اور افغان نائب وزیر داخلہ ابراہیم صدر کے درمیان اہم ملاقات ہوئی جس میں دونوں رہنماؤں نے مصافحہ کیا اور دو طرفہ کشیدگی کم کرنے کے لیے بات چیت جاری رکھنے پر اتفاق کیا۔ محسن نقوی کا کہنا تھا کہ پاکستان اور افغانستان برادر ممالک ہیں، اور جس طرح گھریلو اختلافات گفت و شنید سے حل کیے جاتے ہیں اسی طرح دونوں ممالک کے مابین مسائل بھی افہام و تفہیم کے ذریعے ختم ہونے چاہئیں۔ اس ملاقات سے قبل پاکستان اور افغان طالبان کے درمیان استنبول میں ہونے والے چار روزہ مذاکرات کسی نتیجے پر نہ پہنچ سکے۔ وزیر اطلاعات عطاء تارڑ نے تصدیق کی کہ طالبان وفد نے بھارتی حمایت یافتہ دہشت گرد گروہوں کی سرحد پار کارروائیوں کے ٹھوس شواہد تسلیم کرنے کے باوجود کوئی قابلِ عمل یقین دہانی نہیں کرائی۔ ان کے مطابق افغان وفد نے بنیادی ایجنڈے سے انحراف کیا اور بار بار اصل مسئلے سے توجہ ہٹانے کی کوشش کی۔ عطا تارڑ نے واضح کیا کہ پاکستان دہشت گردوں اور ان کے سہولت کاروں کے خلاف اپنی کارروائیاں جاری رکھے گا، اور قومی سلامتی پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔
ایران کا مصالحتی کردار
تہران میں محسن نقوی نے ایرانی صدر ڈاکٹر مسعود پزشکیان سے بھی ملاقات کی۔ ایرانی صدر نے خطے میں کشیدگی کم کرنے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ ایران پاکستان اور افغانستان کے درمیان اختلافات دور کرنے کے لیے ہر ممکن تعاون پر آمادہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ اسلامی تعلیمات مسلم ممالک کو باہمی اتحاد اور مشترکہ دشمنوں کے خلاف یکجہتی کا درس دیتی ہیں۔ محسن نقوی نے ایران کے تعمیری کردار کو سراہتے ہوئے کہا کہ اسلام آباد اور کابل کے درمیان کشیدگی کم کرنے کے لیے مثبت سفارتی رابطے جاری ہیں اور پاکستان کا مقصد مسائل کا پُرامن حل ڈھونڈنا ہے، جبکہ خطے میں کشیدگی بڑھانے کی کسی بھی کوشش کی اجازت نہیں دی جائے گی۔







Discussion about this post