سپریم کورٹ کے آئینی بینچ نے پی ٹی آئی رہنما شبلی فراز کی خالی نشست پر سینیٹ الیکشن کا شیڈول معطل کرنے کی درخواست مسترد کر دی اور واضح کیا کہ عدالت سینیٹ انتخابات کے عمل میں مداخلت نہیں کرے گی۔ جسٹس امین الدین خان کی سربراہی میں پانچ رکنی بینچ نے سماعت کے دوران پشاور ہائیکورٹ کے فیصلے کو کالعدم قرار دیتے ہوئے معاملہ دوبارہ ہائیکورٹ کو بھیج دیا، ساتھ ہی وہاں زیرِ التواء درخواست پر فیصلہ کرنے کی ہدایت جاری کی۔ سماعت کے دوران بیرسٹر گوہر نے مؤقف اختیار کیا کہ کل شبلی فراز کی سیٹ پر سینیٹ کا الیکشن ہے لہٰذا الیکشن شیڈول روکنے کا حکم دیا جائے۔ تاہم بینچ نے یہ استدعا مسترد کر دی۔جسٹس حسن اظہر رضوی نے ریمارکس دیے:
"جب آپ نے خود امیدوار نامزد کر دیا تو پھر حکمِ امتناع کس بنیاد پر مانگ رہے ہیں؟”

جسٹس جمال مندوخیل نے گوہر کے جواب پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ اگر نامزدگی ’مجبوری‘ تھی تو پھر عدالت کو الیکشن سے روکنے کے لیے کیوں ملوث کیا جا رہا ہے؟بیرسٹر گوہر نے مؤقف اپنایا کہ "صرف ایک نشست پر الیکشن ہے، ہمیں دو آئینی عہدوں سے بے آبرو کر کے نکالا گیا، اس لیے الیکشن پر روک لگائی جائے”۔ تاہم بینچ نے واضح کیا کہ عدالت سینیٹ الیکشن کے عمل میں مداخلت نہیں کرے گی۔ سپریم کورٹ نے ساتھ ہی پشاور ہائیکورٹ کی جانب سے کیس کو غیر معینہ مدت تک ملتوی کرنے کے فیصلے کو بھی ختم کرتے ہوئے ہائیکورٹ کو فریقین کو سن کر جلد فیصلہ سنانے کا حکم دے دیا۔







Discussion about this post