بین الاقوامی کرکٹ کے میدانوں میں برسوں خاموش رہنے کے بعد سابق میچ ریفری کرس براڈ نے وہ پردہ ہٹا دیا جس کے پیچھے کرکٹ کی بڑی طاقت کا اصل چہرہ چھپا تھا۔انہوں نے دوٹوک الفاظ میں اعتراف کیا کہ آئی سی سی کے اندر بھارت کے لیے الگ رعایتیں موجود رہتی تھیں حتیٰ کہ قانون بھی ان کے سامنے جھکایا جاتا تھا۔کرس براڈ کے بقول:
"بھارت کے خلاف کوڈ آف کنڈکٹ کی خلاف ورزی پر سختی نہ کرنے کا حکم دیا گیا تھا۔ ایک میچ میں بھارتی ٹیم واضح طور پر چار اوور پیچھے رہ گئی تھی، جرمانہ یقینی تھا، مگر مجھے فون کال کر کے کہا گیا:‘کوئی راستہ نکالو… یہ بھارت ہے، ہاتھ ہلکا رکھو’.”
Former ICC referee Chris Broad has exposed how India’s money power has corrupted world cricket.
Broad said he was once told to "be lenient… because it’s India” when the team was behind on over-rate and due a fine. The next match, when the same happened, he was told to "just do… pic.twitter.com/crKKJTIzu9— Faizan Lakhani (@faizanlakhani) October 27, 2025
انہوں نے مزید بتایا کہ اگلے ہی میچ میں سارو گنگولی نے دوبارہ سست روی اختیار کی اور آفیشلز کی بات سننے سے انکار کیا مگر جب سزا کی باری آئی تو صرف گنگولی کو ہدف بنایا گیا، پوری ٹیم کو نہیں۔ریٹائرڈ ریفری نے تلخ حقیقت کھول کر رکھ دی:
“کھیل اب کھیل نہیں رہا، اس میں پوری سیاست گھس چکی ہے۔ فیصلے قانون پر نہیں، سیاسی و مالی طاقت دیکھ کر ہوتے ہیں۔ سارا پیسہ بھارت کے پاس ہے، اسی لیے اُس نے عملی طور پر آئی سی سی پر قبضہ کر لیا ہے.”
کرس براڈ نے یہ کہہ کر اپنی بات ختم کی کہ وہ آج خوش ہیں کہ آئی سی سی کے آفیشلز کا حصہ نہیں کیونکہ اب وہ کرسی کھیل نہیں بلکہ سیاسی دباؤ کی نشست بن چکی ہے۔







Discussion about this post