پاکستان کے چاروں صوبے سال بھر مختلف اوقات میں ٹماٹر کی فصل مارکیٹ تک پہنچاتے ہیں، مگر فصلوں کے اختتامی دور میں خلا پیدا ہو جاتا ہے اور کبھی ایک صوبہ تین دوسرے صوبوں کی ضرورت اٹھاتا ہے۔ ایسے مواقع پر ایران اور افغانستان سے درآمدات ناگزیر بن جاتی ہیں۔ اس بار پاکستان افغانستان کی سرحد طویل عرصہ بند رہنے اور بھارت کے ساتھ تجارت پہلے ہی معطل ہونے کے باعث صرف ایران پر انحصار کرنے پر مجبور ہے۔ تاجروں کے مطابق مارچ–اپریل کے دوران فراہمی میں واضح کمی کا امکان ہے جو نئی مہنگائی کا سبب بن سکتی ہے۔
کاشتکاروں اور منڈی کا منظرنامہ
راوی سبزی منڈی لاہور کے سید خالق شاہ کے مطابق سندھ کے مختلف علاقوں سے نئی فصل کی محدود آمد شروع ہو گئی ہے اور نومبر سے فروری تک رسد میں مزید بہتری کی امید ہے، مگر پنجاب کی رواں سال کی فصل غیر معمولی بارشوں اور سیلاب سے تباہ ہو چکی ہے۔ خیبر پختونخوا کی فصل عمومی طور پر مئی سے اگست کے درمیان جبکہ بلوچستان کی فصل مارچ کے بعد منڈیوں تک پہنچتی ہے۔ فی الحال کوئٹہ سمیت چند مقامات سے معمولی مقدار میں ٹماٹر کی سپلائی شروع ہو چکی ہے۔

بارشوں کے باعث سوات کی فصل بھی متاثر ہوئی اور پنجاب کی منڈیوں میں روزانہ آنے والے 150–200 ٹرکوں کی تعداد گھٹ کر صرف 20–30 رہ گئی ہے۔ بھاؤ میں کمی کے بعد ایرانی ٹماٹر کے 8–9 کلوگرام کے پیکٹ لاہور میں 1000 سے 1500 روپے تک آ گئے ہیں جو کچھ روز پہلے 2500–4000 روپے میں دستیاب تھے۔ سوات کے 15–16 کلوگرام کے پیکٹ کی قیمت بھی 4500–6000 سے کم ہو کر 2500–4000 روپے تک آ گئی ہے۔ اس وقت پنجاب میں روزانہ 70–90 ٹرک ایران سے آرہے ہیں جبکہ افغانستان سے سپلائی بدستور معطل ہے۔
ایک بڑی تصویر: مسئلہ صرف بارش نہیں ، پالیسی بھی کمزور
پاکستان فروٹس اینڈ ویجیٹیبلز ڈیلرز ایسوسی ایشن کے سرپرستِ اعلیٰ وحید احمد کے مطابق پنجاب کے ساتھ بلوچستان اور سندھ کے بعض حصوں میں بھی ٹماٹر کی فصل بارشوں اور سیلاب سے متاثر ہوئی، جبکہ سرحدی کشیدگی کے باعث افغانستان سے درآمد رکی ہوئی ہے۔ انہوں نے یاد دلایا کہ 2016–17 میں بیماری پھیلنے کے باعث بھارت سے درآمدات بند ہوئیں اور سستے پڑوسی ٹماٹر کی یلغار نے مقامی کاشتکار بھی بددل کر دیے۔ وہ کہتے ہیں کہ اگر ڈالر کی کمی، نقل و حمل کے اخراجات اور خطے کے حالات کو دیکھتے ہوئے بھارت، ایران اور افغانستان جیسے قریبی ممالک سے کم لاگت پر ٹماٹر درآمد کیے جائیں تو قیمتوں کو مستحکم رکھا جا سکتا ہے، جیسا کہ ماضی میں پیاز کے بحران کے دوران کیا گیا تھا۔ کراچی سبزی منڈی کے محمد رفیق گجر کے مطابق ستمبر اور اکتوبر ہر سال نازک مہینے ثابت ہوتے ہیں کیونکہ اس دوران مقامی فصل تیار نہیں ہوتی اور ملک درآمدات پر چلتا ہے۔ ان کے مطابق پنجاب میں سیلاب نے شدید نقصان پہنچایا، مگر سندھ کی فصل نسبتاً محفوظ رہی کیونکہ وہاں سیلابی پانی کی شدت کم تھی۔تاجر اور ماہرین اب حکومت کو متنبہ کر رہے ہیں کہ اگر فوری طور پر درآمدی پالیسی کو سہل نہ بنایا گیا اور مقامی فصلوں کی بحالی کے اقدامات نہ کیے گئے تو آئندہ بہار میں ٹماٹر ایک بار پھر “سرخ سونا” بن سکتا ہے۔







Discussion about this post