راولپنڈی کی انسداد دہشت گردی عدالت نے 26 نومبر کے احتجاجی مقدمے میں عدم حاضری پر علیمہ خان کے تیسری مرتبہ ناقابلِ ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری کرتے ہوئے انہیں گرفتار کر کے 22 تاریخ کو عدالت میں پیش کرنے کا حکم دے دیا۔ انسدادِ دہشت گردی عدالت کے جج امجد علی شاہ نے علیمہ خان سمیت 11 نامزد ملزمان کے خلاف مقدمے کی سماعت کی، جس میں علیمہ خان مسلسل غیر حاضر رہیں۔ عدالت نے عدم پیشی پر نہ صرف ملزمہ کے وارنٹ جاری کیے بلکہ ان کے ضامن عمر شریف کے بھی ناقابلِ ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری کر دیے اور ان کی جائیداد کی تصدیق کیلئے ڈی سی راولپنڈی کو ہدایات جاری کر دیں۔ مقدمے میں نامزد دیگر 10 ملزمان عدالت میں پیش ہوئے جبکہ استغاثہ کے 5 گواہان بھی مالِ مقدمہ سمیت عدالت کے روبرو موجود رہے۔ سماعت سے قبل لیڈیز پولیس کی بڑی نفری عدالت کے باہر تعینات رہی۔پراسیکیوٹر نے مؤقف اپنایا کہ علیمہ خان کی آج غیر حاضری پر ان کی ضمانت منسوخ کرنے کی کارروائی ہونی چاہیے۔اس پر وکیلِ صفائی نے اعتراض اٹھاتے ہوئے مؤقف اختیار کیا کہ:
-
علیمہ خان کے ناقابلِ ضمانت وارنٹ "غیر قانونی” ہیں
-
علیمہ خان پر یکطرفہ فردِ جرم عائد کرنا قانون کے منافی ہے
-
دہشت گردی کی دفعات کے خلاف ان کی درخواست سماعت کیلئے منظور ہو چکی ہے، جب تک اس پر فیصلہ نہیں ہوتا فردِ جرم عائد نہیں کی جا سکتی
عدالت نے دلائل سننے کے بعد علیمہ خان کی گرفتاری کے واضح احکامات جاری کرتے ہوئے رپورٹ طلب کر لی۔







Discussion about this post