وزیرِ دفاع خواجہ آصف نے انتباہ کیا ہے کہ اگر پاکستان اور افغانستان نے دہشت گردی کے ناسور کو جڑ سے ختم کرنے کے لیے سنجیدہ اور مشترکہ اقدامات نہ کیے تو پورے خطے کا امن خوفناک خطرات سے دوچار ہو جائے گا۔ تاہم انہوں نے واضح کیا کہ خدشات کے مکمل خاتمے سے متعلق کوئی حتمی بات کہنا قبل از وقت ہے ، آئندہ مہینوں میں دیکھا جائے گا کہ جنگ بندی معاہدے پر کس حد تک عمل درآمد ہوتا ہے۔قطر کے نشریاتی ادارے الجزیرہ عربیہ کو دیے گئے انٹرویو میں انہوں نے کہا کہ پاک افغان جنگ بندی کا بنیادی مقصد دہشت گردی کے دیرینہ مسئلے کا خاتمہ ہے۔ خواجہ آصف نے امیرِ قطر شیخ تمیم بن حمد آل ثانی، ترک صدر رجب طیب ایردوان اور ترک وفد کے سربراہ ابراہیم کا ثالثی اور تعاون پر خصوصی شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے کہا کہ دہشت گردی برسوں سے دونوں ممالک کی سرحدی پٹی کو لہو میں نہلاتی رہی اور گزشتہ ہفتے تو یہ معاملہ براہِ راست مسلح تصادم کی شکل اختیار کر گیا تھا، جس کے بعد دونوں ممالک اس نتیجے پر پہنچے کہ فوری اور فیصلہ کن اقدامات ناگزیر ہیں۔ وزیر دفاع نے بتایا کہ یہ معاہدہ قطر اور ترکی کی ثالثی سے طے پایا ہے جبکہ تفصیلات کو حتمی شکل دینے کیلئے آئندہ ہفتے استنبول میں اہم اجلاس منعقد ہوگا۔ ان کا کہنا تھا کہ افغان وزیرِ دفاع نے بھی تسلیم کیا ہے کہ دہشت گردی ہی پاک افغان تعلقات میں کشیدگی کی اصل جڑ ہے، جس کے خاتمے کے لیے اب مشترکہ حکمتِ عملی وضع کی جائے گی۔

انہوں نے کہا کہ قطر اور ترکی کی موجودگی بذاتِ خود اس معاہدے کی ضمانت ہے۔ پاکستان نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں بھاری جانی و مالی قربانیاں دیں ، امید ہے کہ اب امن بحال ہوگا، تجارت اور ٹرانزٹ بحال ہوں گے اور افغانستان دوبارہ پاکستانی بندرگاہوں سے استفادہ کر سکے گا۔ افغان مہاجرین کے معاملے پر بات کرتے ہوئے خواجہ آصف نے کہا کہ جن کے پاس قانونی ویزے اور دستاویزات موجود ہیں وہ پاکستان میں رہ سکتے ہیں، تاہم غیر قانونی افراد کی واپسی جاری رہے گی۔ انہوں نے واضح کیا کہ پاک افغان بارڈر کا استعمال اب دنیا کے دیگر ممالک کی طرح باقاعدہ اور منظم اصولوں کے تحت ہونا چاہیے۔ وزیر دفاع نے کہا کہ پاکستان اور افغانستان صدیوں سے ہمسائے ہیں، جغرافیہ بدلا نہیں جا سکتا۔ امید ہے کہ اس معاہدے کے بعد دونوں ممالک نئے اعتماد اور بہتر تعلقات کے ساتھ آگے بڑھیں گے۔ انہوں نے قطر اور ترکی کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ انہی برادر ممالک کی موجودگی نے ہمیں اعتماد اور یقین بخشا ہے۔







Discussion about this post