پنجاب کابینہ نے تحریک لبیک پاکستان (ٹی ایل پی) پر پابندی کی منظوری دے دی اور اس سلسلے میں سمری وفاقی حکومت کو بھیج دی گئی ہے۔ صوبائی حکومت نے عوامی امن و امان کو برقرار رکھنے کے لیے متعدد سخت فیصلے بھی کیے ہیں۔
اہم فیصلے:
-
ٹی ایل پی پر پابندی کی منظوری دی گئی؛ پابندی کی سمری وفاق کو ارسال کر دی گئی۔
-
نئے اسلحہ لائسنس جاری کرنے پر پابندی عائد کر دی گئی۔
-
نماز اور خطبے کے علاوہ لاؤڈ اسپیکر کے استعمال پر پابندی لگا دی گئی۔ لاؤڈ اسپیکر کے ذریعے نفرت، اشتعال یا تشدد پھیلانے کی سخت مخالفت ہوگی۔
-
غیر قانونی اسلحہ رکھنے والے افراد کو ایک ماہ کی مہلت دی گئی؛ اس عرصے میں اسلحہ جمع نہ کرانے پر دہشت گردی کے مقدمات درج کیے جائیں گے۔
-
دفعہ 144 تاحال نافذ ہے؛ چار افراد سے زائد اجتماع کی اجازت نہیں۔
-
نفرت انگیز مواد اپ لوڈ کرنے یا فساد کو بڑھاوا دینے پر پیکا قوانین کے تحت مقدمات درج کیے جائیں گے اور گرفتاریوں کا عمل جاری ہے۔
-
ٹی ایل پی کے سوشل میڈیا اور بینک اکاؤنٹس کو سیل کرنے کا عمل شروع کر دیا گیا ہے۔
وزیرِ اطلاعات پنجاب عظمیٰ بخاری نے پریس کانفرنس میں کہا کہ مذہب کے نام پر تشدد اور املاک کو نقصان پہنچانا قابلِ قبول نہیں۔ اُن کا کہنا تھا کہ ریاست ایسے احتجاج برداشت نہیں کر سکتی اور امن و امان مقدم ہے۔عظمیٰ بخاری نے واضح کیا کہ مارکیٹیں، عام لوگوں کی روزمرہ زندگی اور ادارے محفوظ رہیں , ریاست قانون کی عملداری یقینی بنائے گی اور ناقابلِ برداشت عناصر کے خلاف سخت کارروائی ہوگی۔







Discussion about this post