انٹرنیشنل کرکٹ کونسل (آئی سی سی) کے مطابق ویمنز ورلڈ کپ 2025 نے مقبولیت کے تمام سابقہ ریکارڈ توڑ دیے ہیں۔ ٹورنامنٹ کے ابتدائی 13 میچز دنیا بھر میں 6 کروڑ سے زائد شائقین نے دیکھے، جو خواتین کرکٹ کے لیے ایک تاریخی سنگِ میل ہے۔ یہ پہلا ویمنز ورلڈ کپ ہے جس کی انعامی رقم مردوں کے گزشتہ ون ڈے ورلڈ کپ سے بھی زیادہ ہے۔ ٹورنامنٹ کا مجموعی انعامی خزانہ 13.88 ملین ڈالر (11.9 ملین یورو) مقرر کیا گیا ہے۔بھارت اور سری لنکا میں جاری 50 اوورز کے 13ویں ایڈیشن میں 8 ٹیمیں شریک ہیں، جب کہ فائنل 2 نومبر کو منعقد ہوگا۔

آئی سی سی اور جیو ہاٹ اسٹار کے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق، رواں ورلڈ کپ کے ابتدائی میچز کی ناظرین تعداد 2022 کے ورژن کے مقابلے میں 5 گنا زیادہ رہی۔ سب سے زیادہ دیکھا جانے والا میچ بھارت اور پاکستان کے درمیان 5 اکتوبر کو کولمبو میں کھیلا گیا، جسے 2 کروڑ 84 لاکھ سے زائد ناظرین نے دیکھا۔ یہ میچ خواتین کرکٹ کی تاریخ کا سب سے زیادہ دیکھا جانے والا بین الاقوامی مقابلہ قرار پایا۔ دفاعی چیمپیئن آسٹریلیا آٹھویں مرتبہ ٹائٹل جیتنے کی دوڑ میں شامل ہے، جبکہ میزبان بھارت پہلی بار ورلڈ کپ جیتنے کے عزم کے ساتھ میدان میں ہے۔

دوسری جانب پاکستانی ٹیم اپنے تمام میچز کولمبو میں کھیل رہی ہے، جو دونوں ممالک کے درمیان ایک خصوصی معاہدے کے تحت طے پایا تاکہ بھارت اور پاکستان غیر جانبدار میدانوں پر اپنی کرکٹ جاری رکھ سکیں۔ویمنز ورلڈ کپ 2025 نہ صرف کرکٹ کے میدان میں بلکہ ناظرین کی تعداد اور مالی انعامات کے لحاظ سے بھی خواتین کھیلوں کی تاریخ کا سب سے کامیاب ایونٹ بن گیا ہے۔








Discussion about this post