امریکہ کے سابق قومی سلامتی کے مشیر جان بولٹن پر خفیہ معلومات کی ترسیل اور محفوظ رکھنے کے الزامات میں فردِ جرم عائد کر دی گئی ہے۔میری لینڈ کی ایک وفاقی گرینڈ جیوری نے 76 سالہ بولٹن پر 18 الزامات لگائے ہیں۔ ان پر الزام ہے کہ انہوں نے دو غیر مجاز افراد (ممکنہ طور پر اپنی اہلیہ اور بیٹی) کو ای میل کے ذریعے خفیہ سرکاری معلومات بھیجیں۔استغاثہ کے مطابق، بولٹن نے اپنے عہدے کے دوران ایک ہزار سے زائد صفحات پر مشتمل نوٹس غیر سرکاری ای میلز اور میسجنگ ایپس پر شیئر کیے۔ ان میں آئندہ حملوں، دشمن ممالک اور امریکی خارجہ پالیسی سے متعلق حساس معلومات شامل تھیں۔ ہر الزام پر زیادہ سے زیادہ 10 سال قید کی سزا ہو سکتی ہے۔امریکی محکمۂ انصاف کے مطابق، ایف بی آئی نے اگست میں بولٹن کے گھر اور دفتر پر چھاپے مار کر شواہد اکٹھے کیے۔امریکہ کی اٹارنی جنرل پم بونڈی نے کہا:
“جو بھی قومی سلامتی کو خطرے میں ڈالے گا، اسے قانون کے مطابق سزا دی جائے گی۔ کوئی بھی قانون سے بالاتر نہیں۔”

دوسری جانب جان بولٹن نے الزامات کو سیاسی انتقام قرار دیتے ہوئے کہا کہ وہ انصاف کے محکمے کے غلط استعمال کا نشانہ بنے ہیں۔صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سابق مشیر پر ردعمل دیتے ہوئے کہا:
“جان بولٹن برے آدمی ہیں، اور یہی طریقۂ کار ہے۔”
بولٹن نے ٹرمپ کے دورِ حکومت میں قومی سلامتی کے مشیر کے طور پر کام کیا، لیکن بعد میں اختلافات کے بعد انہوں نے ایک کتاب لکھی “دی روم ویئر اِٹ ہیپنڈ” جس میں انہوں نے ٹرمپ پر سخت تنقید کی۔ایرانی حکومت کے ناقد بولٹن کو پہلے بھی تہران سے جان سے مارنے کی دھمکیاں مل چکی ہیں۔ اب وہ ایک بار پھر خبروں میں ہیں، مگر اس بار خود ایک مقدمے کے ملزم کے طور پر۔







Discussion about this post