درجنوں صحافیوں نے ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے عائد کی گئی نئی پابندیوں کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے پینٹاگون چھوڑ دیا، ان ضابطوں کو انہوں نے آزادیٔ صحافت کے لیے خطرہ قرار دیا۔ امریکا میں درجنوں رپورٹرز نے اپنے رسائی بیجز جمع کرائے اور پینٹاگون سے نکل گئے، تاکہ ٹرمپ انتظامیہ کی طرف سے ان کے کام پر عائد کی گئی نئی پابندیوں کے خلاف احتجاج کیا جا سکے۔ٹرمپ انتظامیہ کا کہنا ہے کہ یہ نئے ضابطے “عام فہم” ہیں اور “انتہائی خلل ڈالنے والی” صحافت کو منظم کرنے کے لیے ضروری ہیں۔خبر رساں اداروں نے متفقہ طور پر ان نئے اصولوں کو مسترد کیا جنہیں وزیرِ دفاع پیٹ ہیگسیٹھ نے نافذ کیا تھا۔ ان ضابطوں کے تحت صحافیوں کو اس صورت میں دفتر سے نکالے جانے کا خطرہ لاحق تھا اگر وہ خفیہ یا غیر منظور شدہ معلومات پر رپورٹنگ کرتے۔صحافی اپنی کرسیاں، فوٹو کاپی مشین، کتابیں اور پرانی تصاویر اپنے اچانک خالی کیے گئے دفاتر سے نکال کر پارکنگ لاٹ میں لے گئے۔ شام 4 بجے کے قریب تقریباً 40 سے 50 صحافیوں نے اپنے بیجز جمع کرا کے اجتماعی طور پر پینٹاگون چھوڑ دیا۔ایٹلانٹک کی رپورٹر نینسی یوسف، جو 2007 سے پینٹاگون میں رپورٹنگ کر رہی ہیں، نے کہا:
“یہ افسوسناک ہے، مگر میں اپنے ساتھی صحافیوں پر فخر محسوس کرتی ہوں کہ ہم سب ایک ساتھ کھڑے رہے۔”

یہ ضابطے اُس وقت نافذ کیے گئے جب چند ماہ قبل ایک سنگین سیکیورٹی خلاف ورزی سامنے آئی تھی ، خبر کے مطابق وزیرِ دفاع ہیگسیٹھ نے دو بار اپنی ذاتی فون کے ذریعے فوجی حملے کے منصوبے اپنی بیوی، بھائی اور ذاتی وکیل کے ساتھ شیئر کیے تھے۔تاہم یہ ابھی واضح نہیں کہ ان نئے اصولوں کا عملی اثر کیا ہوگا، البتہ مختلف نیوز تنظیموں نے عزم ظاہر کیا ہے کہ وہ کسی بھی رکاوٹ کے باوجود فوجی معاملات کی بھرپور رپورٹنگ جاری رکھیں گی۔
ٹرمپ کی حمایت
منگل کو وائٹ ہاؤس میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے وزیرِ دفاع کے نئے ضابطوں کی حمایت کی۔ٹرمپ نے کہا، “میرا خیال ہے کہ وہ سمجھتے ہیں کہ میڈیا عالمی امن کے لیے بہت خلل ڈالنے والا عنصر ہے۔ میڈیا بہت بے ایمان ہے۔”

اپنی نئی میڈیا پالیسی جاری کرنے سے پہلے ہی، ہیگسیٹھ جو سابق فاکس نیوز میزبان ہیں نے معلومات کے بہاؤ کو نمایاں طور پر محدود کر دیا تھا۔رپورٹس کے مطابق انہوں نے صرف دو باقاعدہ پریس بریفنگز کیں، پینٹاگون کے کئی حصوں میں صحافیوں کی آزادانہ رسائی پر پابندی لگا دی، اور میڈیا لیکس کی تحقیقات شروع کیں۔ہیگسیٹھ نے ان نئے ضابطوں کا دفاع کرتے ہوئے انہیں “عام فہم” قرار دیا اور کہا کہ صحافیوں سے دستخط کروانے کا مطلب یہ نہیں کہ وہ متفق ہیں، بلکہ صرف یہ کہ وہ ضابطوں سے آگاہ ہیں۔سابق امریکی جنرل اور فاکس نیوز تجزیہ کار جیک کین نے کہا:
“وہ دراصل یہ چاہتے ہیں کہ صحافیوں کو چمچ سے کھلایا ہوا مواد دیا جائے، اور وہی ان کی کہانی بن جائے ،یہ صحافت نہیں ہے۔”

ان ضابطوں پر پینٹاگون پریس ایسوسی ایشن نے بھی شدید تنقید کی ہے، جس کے 101 اراکین 56 نیوز اداروں کی نمائندگی کرتے ہیں۔متعدد میڈیا اداروں جن میں نیوز میکس، فاکس نیوز، نیویارک ٹائمز اور ایسوسی ایٹڈ پریس شامل ہیں نے اپنے رپورٹرز کو ہدایت دی کہ وہ نئے اصولوں پر دستخط کرنے کے بجائے پینٹاگون چھوڑ دیں۔







Discussion about this post