لندن میں موبائل فون چوری اتنی بڑھ گئی ہے کہ گزشتہ برس دارالحکومت میں تقریباً 80 ہزار فون چرائے یا چھینے گئے اور اب میٹروپولیٹن پولیس اس واردات کے پیچھے چلنے والے پیچیدہ عالمی نیٹ ورک کو بے نقاب کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔پولیس نے شمالی لندن کی گلیوں میں چھاپے مار کر سیکنڈ ہینڈ فون کی دکانوں سے چوری شدہ فون، نقدی اور دستاویزات برآمد کیں؛ دو ہفتوں کی کارروائی میں تقریباً 2 ہزار چوری شدہ فون اور 2 لاکھ پاؤنڈ ضبط ہوئے۔ یہ چھاپے اُن درجنوں چھاپوں میں سے تھے جو حالیہ مہینوں میں کیے گئے۔
ماہرین اور پولیس کے مطابق یہ مسئلہ روایتی جیب تراشی سے کہیں آگے بڑھ کر انڈسٹریل اسکیل کا مجرمانہ کاروبار بن چکا ہے:
-
چور گلی میں ای-بائیکس اور نقاب پہن کر تیز رفتاری سے فون چھین لیتے ہیں؛
-
درمیان میں دکانیں اور بروکرز ہیں جو فون خرید کر بین الاقوامی مارکیٹ میں بھیجتے ہیں؛
-
اوپر اسمگلروں کا ایک نیٹ ورک ہے جو بڑی مقدار میں فون چین اور الجزائر بھیجتا ہے۔
ایک خاتون نے ‘‘فائنڈ مائی آئی فون’’ کے ذریعے اپنے فون کی لوکیشن ٹریک کی، جو ہیتھرو کے قریب ایک گودام پر ختم ہوئی, وہاں سے ہزاروں چوری شدہ فونز برآمد ہوئے جنہیں ہانگ کانگ جانے والے کارٹنز میں چھپایا گیا تھا۔ اس کے بعد تحقیقات کو ایک نئی سمت ملی اور اسمگلنگ کے ثبوت ملے۔پولیس کا کہنا ہے کہ چوری شدہ فونز کو الومینیم فوائل میں لپیٹ کر ٹریسنگ سگنلز بند کر دیے جاتے ہیں، اور کچھ فون برطانیہ میں دوبارہ سیٹ کر کے فروخت بھی کیے جاتے ہیں۔ مگر بڑی تعداد میں یہ فون چین بھیجے جاتے ہیں جہاں نئی قیمت کے مقابلے میں بلیک مارکیٹ میں یہ اچھا منافع دیتی ہیں ، کبھی کبھار نئے فونز کی قیمت کے برابر یا اس سے اوپر تک۔

سائبرسیکیورٹی ماہرین کے مطابق چین کے نیٹ ورکس بعض اوقات بین الاقوامی بلیک لسٹنگ سسٹم سے باہر ہوتے ہیں، اس لیے وہاں بلاک کیے گئے برٹش فونز آسانی سے فعال ہو جاتے ہیں اور یہی ملزمان کے لیے منافع بخش بناتا ہے۔
2010 کی دہائی میں بجٹ کٹوتیوں اور اہلکاروں میں کمی نے چھوٹے مگر منافع بخش جرائم کو کم ترجیح بنا دیا، جس نے پیشہ ور چھوٹے گروپس کے لیے ماحول سازگار کر دیا۔ 2017 میں میٹ پولیس نے کچھ ’’کم ترجیحی‘‘ جرائم کی تحقیقات محدود کر دیں تاکہ وسائل سنگین جرائم پر لگائے جا سکیں مگر اس کے نتیجے میں فون چوری جیسی وارداتیں بڑھی۔

اب حکام نے اس وبا کے خلاف بڑی کارروائیاں تیز کر دی ہیں، اسمگلرز، دکاندار اور گلی کے چور تینوں سطحوں پر کریک ڈاؤن شروع ہو چکا ہے۔ کمانڈر اینڈریو فیدرسٹن کے الفاظ میں، مقصد یہ ہے کہ مجرموں کو واضح پیغام دیا جائے کہ ’’فون چوری اب منافع بخش نہیں رہی پکڑا جا سکتا ہے۔’’تاہم پولیس یہ بھی چاہتی ہے کہ عوام ذاتی احتیاط اختیار کریں موبائل استعمال کرتے ہوئے سڑک کنارے کھڑے رہنا یا عوامی جگہوں پر لاپرواہی سے فون دکھانا خطرہ بڑھاتا ہے۔







Discussion about this post